سری نگر//جموںوکشمیر یوٹی کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور تقریباً 70فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر زراعت اور اس سے منسلک ہیں۔جموںوکشمیر میں اُگائی جانے والی فصلوں میں سے چاول ایک اہم فصل ہے ۔کشمیر اور جموں دونوں صوبوں میں گرمیوںمیں بویا جاتا ہے اور ستمبر کے آخیر میں کٹائی کی جاتی ہے ۔چاول کے علاوہ مکئی ، باجرا، دالیں ، سبزیاں جیسے مٹر ، لوبیا ،مسور وغیرہ بھی گرمیوں کے موسم میں اُگائی جاتی ہیں۔گندم ایک اور اہم فصل ہے اور جو کے ساتھ سردیوں میں کاشت کی جاتی ہے اور موسم بہار میں کاٹی جاتی ہے۔ تمام ریاستوں اور یوٹیوں میں جموں وکشمیر کو زرعی گھرانوں کی ماہانہ آمدنی میں تیسرا اور زراعت اور اس سے منسلک شعبے میں پانچویں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاست اور یوٹیوں میں درجہ دیا گیا ہے ۔جموںوکشمیر کے زائد اَز دس لاکھ مستفید ین کو 1983.29 کرو ڑوپے کی مالی مدد براہ راست پی ایم کسان سکیم کے تحت گذشتہ تین برسوں کے دوران ملی ۔ کسانوں کو 12لاکھ کسان کریڈٹ کارڈ ( کے سی سی ) جاری کئے گئے ہیں۔ اِس میں سے 9.46 لاکھ کسان کریڈٹ کارڈ جموں وکشمیر یوٹی میں آپریٹیو ہیں۔ پلوامہ کے ایک کسان محمد اشرف ہائی ڈینسٹی ایپل پلانٹیشن کی اَپنی کامیابی کی داستان بتاتے ہوئے بہت خوش ہیں ۔اُنہوں نے کہا ’’ میر اکنبہ گذشتہ 50برس سے زیادہ عرصے سے سیب کی کاشت کے کاروبار سے منسلک ہے اور گذشتہ ایک دہائی سے فی کنال اراضی سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ سیب کے پرانے درختوں کی پیداواری صلاحیت میں کمی ہے ۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ جب میراکنبہ گرتی ہوئی پیداوار اور آمدنی سے پریشان تھا ۔ہمیں جموںوکشمیر حکومت کی جانب سے ہائی ڈینسٹی ایپل پلانٹیشن سکیم کے بارے میں معلوم ہوا ۔میں نے تین برس پہلے محکمہ باغبانی کے تعاون سے نئے ہائی ڈینسٹی ایپل پلانٹیشن کے تحت تقریباً 7کنال اراضی پر تجربہ کیا او راس سے فی پودا 15 کلو گرام سے زیادہ پھل پیدا ہوا جوکہ پہلے منظر نامے کے مقابلے میں کافی زیادہ تھا۔محمد اشرف نے اَب تقریبا ً ایک برس قبل مزید 7کنال میں 1000 مزید اعلیٰ کثافت والے پودے لگائے ہیںاور دوسروں کو بھی سکیم سے فائدہ اُٹھانے کی ترغیب دی ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’ فی کنال زمین کی زیادہ آمدنی کے علاوہ میںپانچ سے سات کنبوں کو بھی فائدہ مند روزگار فراہم کرنے کے قابل ہوں۔‘‘قومی زعفران مشن کے تحت 126 گہرے بور ویلوں سے جڑے سپرنکلر سسٹم سے آبپاشی کا بنیادی ڈھانچہ بنایا گیا ہے ۔ تاریخ کے مطابق 2598.75 ہیکٹر اراضی کا رقبہ دو بارہ بحال ہوا ہے ۔ زعفران کے قومی مشن کی عمل آوری سے فصل کی پیدا وار میں 1.88کلوگرام فی ہیکٹر سے 4.50کلو گرام فی ہیکٹر تک کافی اِضافہ ہوا ہے جس سے زعفران کے کاشتکاروں کی آمدنی میں دوگنا اِضافہ ہوا ہے۔جموں وکشمیر حکومت نے کامیابی سے زعفران اور باسمتی کے لئے جی آئی ٹیگنگ حاصل کی ہے تاکہ مؤثر ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹنگ ہوسکے ۔ گچھی ( مور چیلا ) ، سلائی شہد ، راجماش اور مشک بُدجی کے لئے جی آئی ٹیگنگ کے لئے رجسٹریشن بھی پائپ لائن میں ہے ۔ یہ کسانوں کی قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مانگ کو بڑھا کر ان کی معاشی خوشحالی کو فروغ دے گا۔جموںوکشمیر حکومت نے دو جے اینڈ کے سیڈاینڈ آرگنک سر ٹیفکیشن ایجنسیاں ایک جموں او رایک کشمیر صوبے میں قائم کی ہیں ۔ حکومت نے کشمیر صوبہ میں اے پی اِی ڈی اے، ایل یو ایل یو گروپس کے دفاتر اور جموں صوبہ میں اے پی اِی ڈی اے کے دفاتر کھولنے میں بھی سہولیت فراہم کی۔جموںوکشمیر میں 1.10 لاکھ ہیکٹر رقبے پر تیل کے بیج بوئے گئے ہیں ۔ کشمیری لال مرچ 1,182 ہیکٹر پر ، میٹھی مکئی 165ہیکٹر پر کاشت کی جارہی ہے جبکہ دیگر غیر ملکی سبزیوں کی کاشت 150 ہیکٹر سے زیادہ ہوئی ہے اور کسانوں کو ان سے بڑے پیمانے پر منافع حاصل ہو رہا ہے۔اِسی طرح ریشم کی کاشت پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہے ۔ جموںوکشمیر کی سری کلچر پالیسی 2020 ء کے مطابق جموںوکشمیر یوٹی میں شہتوت کی ریشم کی پیداوار ہندوستان کی کل شہتوت ریشم کی پیداوار کا صرف 0.66فیصد ہے ۔ ریشم اَپنے آپ میں ایک عمدہ قسم کی مصنوعات ہے اور حکومت سری کلچر شعبے سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو تیزی سے ل کر رہی ہے۔زرعی شعبے کو تبدیل کرنے کے لئے کاشت کاری کا میکانائزیشن ایک ضروری قدم ہے جس سے کسانوں کو زیادہ پیداوار میں مدد ملے گی ۔لیفٹیننٹ گورنر نے وسیع تر معاشی تبدیلی کے لئے کسانوں کو زرعی میکانائزیشن سپورٹ کے ایک حصے کے طور پر کسانوں کو 100ٹریکٹر اور مقامی پنچایتوں کے لئے 1,035 تھریشر کے لئے منظور ی نامے حوالے کئے۔حکومت یونین ٹیریٹری کے مختلف حصوں میں کسٹم ہائرنگ سینٹر اور فارم مشینری بینک بھی قائم کر رہی ہے۔اب تک 207 کسٹم ہائرنگ سینٹروں ( سی ایچ سیز) اور 163فارم مشینری بینک ( ایف ایم بیز) شروع کئے جاچکے ہیں۔جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت میں تکنیکی آلات کے اِستعمال کے بارے میں کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی میںتمام 4,290 پنچایتوں کو ایک پیڈی تھریشر مفت دیا جارہا ہے ۔ اَ ب تک 4,290 پنچایتوں میں سے 3,362 تھریشر پنچایتوں میں تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ایک ناقابل یقین سنگ میل کو حاصل کرتے ہوئے پہلی بار جموں وکشمیر سے ملک کے مختلف حصوں میں سبزیوں کے 2,000 سے زیادہ ٹرک برآمد کئے گئے ہیں ۔جموںوکشمیر نے ہیکٹر دھان کی 70 کوئنٹل پیداوار سے پورے ملک میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہے۔ضلع سانبہ میں وِجے پور کے ایک کسان بلدیو راج نے 24 کنال اراضی میں غیر ملکی ڈریگن فروٹ کاشت کر کے آمدنی میں زبردست اِضافے کا تجربہ کیا ہے۔اُنہوں نے کہا ،‘‘ تقریباً 0.80 لاکھ فی کنال ( 16لاکھ / ہیکٹر ) کی ابتدائی لاگت سے میں اَب تقریباً1,0لاکھ / کنال ( 20لاکھ / ہیکٹر ) سالانہ کما رہا ہوں ۔ بلدیو راج نے جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ اور محکمہ باغبانی کے لئے بالخصوص محکمہ سے حاصل کردہ تکنیکی مدد کے لئے سراہاہے۔ایک اور کسان محمد اکبر ڈار جو بڈگام میں واقع فارمر پروڈیو سر آرگنائزیشن ( ایف پی او ) کے صدر بھی ہیں، اَپنے ایف پی او کی داستان بتا رہے ہیں ۔ تمام تکنیکی مدد کے لئے جموں وکشمیر یوٹی اِنتظامیہ اور این اے ایف اِی ڈی کا شکر یہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح ان کا ایف پی او ممبران کو مارکیٹنگ سپورٹ فراہم کررہا ہے جس سے انہیں پہلے کی نسبت 3گنا قیمت وصول کرنے میں مدد ملی ہے ۔ اُنہوں نے کہا،’’اَب ، ہم نے پورے ملک او ربیرون ملک منڈیوں تک رَسائی حاصل کی ہے جس کے نتیجے میں ہماری پیداوار ی قیمتیں بہتر ہو گئی ہیں ۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان کا ایف پی او اب ایک نیا اخروٹ پروسسنگ یونٹ شروع کر رہا ہے جو اخروت کی پیداوارمیں قدر کے اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ جموں وکشمیر اِس طرح زراعت اور باغبانی شعبوں میں تیزی سے تبدیلی دیکھ رہا ہے جس میں کسانوں کی خوشحالی بڑھ رہی ہے کیوں کہ ان کی آمدنی میں اِضافہ ہورہا ہے اور وہ ملازمت کے متلاشیوں کے بجائے ملازمت فراہم کرنے والے بن رہے ہیں۔










