جماعت اسلامی کے خلاف این آئی اے کا کریک ڈاؤن جاری

جموں و کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے ، کئی جگہوں سے دستاویزات ضبط

سرینگر//قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی جانب سے جموں کشمیر میں کئی جگہوں پر چھاپے مارے گئے یہ چھاپہ مار کارروائی ممنوعہ تنظیم جماعت اسلامی سے مبینہ طور وابستہ افراد کے گھروں پر ڈالے گئے جس دوران کئی موبائل اور دیگر دستاویزات ضبط کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر میں بڑے کریک ڈاؤن میں، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو جموں و کشمیر میں پولیس اور سی آر پی ایف کی مدد سے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے ایک معاملے کے سلسلے میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔معتبر ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے پولیس اور سی آر پی ایف کی مدد سے سرینگر کی ایچ آئی جی کالونی بمنہ میں عمر رسیدہ 85سالہ غلام محمد بٹ ولد محمد جبار کے گھر پر چھاپہ ماراجس دوران مکینوں سے پوچھ تاچھ کئی گئی ۔ ادھر جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں این آئی اے کی ٹیم نے مدثر احمد ڈار ولد غلام حسن ڈار ساکن کے وی پورہ مرہامہ کے گھر پر چھاپہ مارا۔انسپکٹر پٹیل کی سربراہی میں دوسری ٹیم نے جماعت اسلامی کے غلام قادروانی ولد عبدالسلام وانی جو کہ گواؤ پلوامہ کے رہنے والے ہیں کے گھر کی تلاشی لی ۔اسی طرح این آئی اے کی ٹیم نے ٹھوکر پورہ راج پورہ میں شمیم احمد ٹھوکر ولد غلام نبی ٹھوکر (سرکاری استاد) کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔این آئی اے کی ایک اور ٹیم نے منصور آہ ڈار ولد مرحوم محمد مقبول ڈار کے گھر کی تلاشی لی جو کاکا پورہ میں ونبل نہامہ کے رہنے والے ہیں۔ادھر شمالی کشمیر میں، عبید خضر ملک ولد خضر محمد ملک کے گھر وارپورہ زچلدرہ، ہندواڑہ میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے تلاشی لی جا رہی ہے۔پلوامہ کے نہامہ میں مشتاق آہ راتھر ولد اسد اللہ راتھر اور عبدالرشید ملک ولد غلام احمد ملک کے گھروں کی این آئی اے کی ایک اور ٹیم تلاشی لی ۔ایجنسی نے ڈفر پورہ نیوا میں عبدالرشید ملک ولد غلام احمد ملک کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایڈوکیٹ زاہدجماعت اسلامی کے رکن، ساکن نیہامہ کاکاپورہ کا قریبی رشتہ دار ہے جو اس وقت پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندہے۔دریں اثناء قومی تحقیقاتی ایجنسی نے دیگر جگہوںپر بھی چھاپے مارے جہاں سے کئی موبائل فون اور اہم دستاویزات ضبط کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ مرکز نے سال 2019کو جماعت اسلامی جموں کشمیر اور لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کرکے ان جماعتوں کو کالعدم قراردیاتھا جس کے بعد جماعت اسلامی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون کیا گیا اور کئی اہم لیڈران کو گرفتار کرکے نظر بند کیا گیا جن میں متعدد رہاکئے گئے البتہ ابھی بھی کچھ لیڈران مختلف جیلوں میں بند ہیں۔