سرکاری خزانہ کو ماہانہ کروڑوں کا چونا ، معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ
سرینگر//محکمہ جل شکتی ڈویژن بڈگام کے سب ڈویژن خان صاحب میں مبینہ طور پر کیجول لیبروں کے ناموں پر ماہانہ کروڑوں روپے سرکاری خزانہ سے نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کی متعلقہ افسران اور دیگر ملازمین بندر بانٹ کرکے کھاجاتے ہیں جبکہ ایسے کیجول لیبر جو سالہا سال سے دفتر نہیں آرہے ہیں تنخواہ میں کچھ حصہ لے کر دوسرے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ۔ سی این آئی کی ٹیم نے سب ڈویژن خان صاحب جل شکتی کا دورہ کیا جہاں پر انہیں معلوم ہوا ہے کہ سب ڈویژن میں 216کیجول لیبر فہرست میں ہیں تاہم ان میں سے اکثر دفتر آتے ہی نہیں ہے اور جو ان کے ناموں پر تنخواہ جاری ہوتی ہے وہ متعلقہ افسران اور کیجول لیبر مل بانٹ کر کھاتے ہیں ۔ معلوم ہواہے کہ ایک سو سے زائد ایسے کیجول لیبر ہے جن میں سے کوئی دکانداری کرتا ہے ، کوئی گاڑی چلاتا ہے اور کوئی کچھ اور کام کرتا ہے لیکن مذکوہ محکمہ سے ماہانہ باضابطہ ان کے ناموں پر تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح بڈگام ڈویژن کے دیگر سب ڈویژنوں جن میں بڈگام سب ڈویژن اور بیرو سب ڈویژن نے یہی حال ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جو کیجول لیبر جو محکمہ میں روزانہ حاضر ہوکر سارا کام چلاتے ہیں ان ہی چند کیجول لیبروں سے ایسے ملازمین کا کام بھی لیا جاتا ہے جو سالہاسال سے غیر حاضر رہ کر تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ اس ضمن میں عوامی حلقوں نے سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس طرح سے سرکاری خزانہ کو چونا لگانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو بھی اس سیکنڈل میں ملوث ہیں ان کے باہر کا راستہ دکھایا جانا چاہئے ۔ ادھر اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ مذکوہ محکمہ کی جانب سے جہاں پر بھی کسی پروجیکٹ پر کام انجام دیا جاتا ہے تو اس کام کے دوران ناقص میٹریل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ چونکہ جل شکتی کی سکیموں کے کام کے دوران زمین دوز پائپیں بچھائی جاتی ہے اس لئے اس کام کے دوران ناقص میٹریل کے استعمال کے بارے میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔










