سرینگر//جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں دیوسر بیلٹ کے کئی دیہات کے مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ جل شکتی (پی ایچ ای) انہیں ناصاف پانی فراہم کر رہا ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ حکام ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔مقامی لوگوں نیوائس آف انڈیا کے نمائندے اعجاذ ایتو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کولگام کے چمگنڈ میں قائم ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ کئی سال گزرنے کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا ہے اس منصوبے کو 2010 میں منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد کام شروع کیا گیا تھا اور فنڈز مختص کیے گئے تھے۔ ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کام ابھی تک نامکمل ہے انہوں نے کہایہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد کئی گاؤں کے تقریباً 5000 گھرانوں کی ضروریات پوری کرے گا جو ندیوں کا آلودہ پانی استعمال کر رہے ہیں اور اس کے لیے فیس بھی ادا کر رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے اعلیٰ حکام سے مداخلت کرکے ان کی مشکلات کو کم کرنے کی اپیل کی ہے۔جب اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (AEE) جل شکتی محکمہ قاضی گنڈ سے رابطہ کیا گیا تو محمد رفیق نے وی او آئی کو بتایا کہ پروجیکٹ کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پروجیکٹ سست روی کا شکار تھا، جس کی وجہ سے پیشرفت سست ہو رہی ہے، “ہم نے ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ منصوبے پر کام تیز کرنے کے لیے ٹھیکیدار، باقی کام میں دو ماہ لگیں گے۔ اسے اس سال جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیر دفاع 21سے 23اپریل تک جرمنی کے دورے پر روانہ ہونگے
کانگریس ، ڈی ایم کے ، سماج وادی پارٹی نے خواتین ریزرویشن ترمیمی بل کی حمایت نہ کر کے بہت بڑی غلطی کی
سکینہ اِیتو نے چمب گنڈ کولگام میں اِضافی کلاس روم کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا
ستیش شرما نے شہید صوبیدار پروین سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
وزیر صحت نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کا دورہ کرکے ممبر پارلیمنٹ اِنجینئر رشید کے والد کی عیادت کی
گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن سری نگر میں صوبائی سطح کا روڈ سیفٹی پروگرام منعقد
420کلو میٹر سرینگر لہیہ اور جمہ گنڈ کپوارہ کی شاہرائیں گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند
ایپکس بجٹ کے دوران دیہی ترقی پلانوں کے تحت ترقیاتی کام کی نگرانی ممبران اسمبلی کرینگے
ہماری ریاست ہمارا حق ، سٹیٹ ہڈ بحال ہونے تک پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے
دنیا بھرکی طرح جموں وکشمیر میں بھی لیور مخالف امراض کاعالمی دن بڑے شوق سے منایا گیا










