جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے کے خلاف کیس درج من مانی کی اجازت نہیں

سات طلبہ کے والدین کی پولیس ساتھ ملاقات اور طلبہ کومعاف کرنے کی درخواست

سرینگر//این آئی ٹی سرینگر میں مذہبی جذبات کو ٹھہیس پہنچانے میں ملوث طالبعلم کے خلاف نگین پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے آئی جی پی مشیر نے کہاکہ دانش گاہ میں امن امان قائم ہے اور زیرتعلیم طلبہ و طالبات کو یقین دلایاگیاہے کہ غیرقانونی اورمذہبی جذبات کوٹھیس پہنچانے میں کوئی ملوث ہوگاا سے بخشا نہیں جائیگا ۔ادھرزرعی یونیورسٹی میں آسٹریلیاں کرکٹ ٹیم کی جشن منانے والے سات طلبہ کے خلاف یو پی اے کے تحت کیس درج ہونے کے بعد لواحقین نے جموںو کشمیر پولیس حکام کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں یقین دلایاکہ مستقبل میں ان کے بچوں کی جانب سے ایسی کارروائی نہیں دہرائی جائیگی انہیں معاف کیاجائے۔ پولیس نے انہیں یقین دلایا کہ معاملے پرغور کیاجائیگا ۔اے پی آئی کے مطابق این آ ئی ٹی یونیورسٹی میں مذہبی جذبات کوٹھیس پہنچانے کے بعد طلاب کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے بعد حالات کو پر امن او رمعمول کے مطابق قرار دیتے ہوئے آ ئی جی پی مشیر نے کہاکہ 28نومبر پانچ بجے کے بعد پولیس کواطلاع ملی کی ایک طالب علم نے اپنے فیس بک کے زریعے ایک کلپ وائرل کیاجس سے مذہبی جزبات کوٹھیس پہنچانے کی کوشش کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس پارٹی جائے موقع پر پہنچ گئی صورتحال کا جائزہ لیا۔ زیرتعلیم طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی گئی اور طلبہ نے مطالبہ کیاکہ مزہبی جزبات اور پیغمبرآخر زماں محمدمستفیٰ ﷺ کے بارے میں کھستاخانہ کارروائی کسی بھی صورت میں برداشت کے قابل نہیں ہوگی ۔احتیاج کرنے والے طلبہ کو یقین دلایا گیاکہ جوکوئی ملوث ہوگا اسکے کیفرکردارتک پہنچایاجائیگا ۔پولیس کے بعد احتجاج کرنے والے طلبہ پر امن ہوئے اور این آئی ٹی کی رجسٹارکی جانب سے تحریری طورپر سفارش کی گئی کہ سوشل میڈیاکے ز ریعے مزہبی جزبات بڑکانے والے طالب علم کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جسکے بعدنگین پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کیاگیاہے او رجوکوئی ملوث ہوگا اسے قانون کاسامنا کرناپڑیگا ۔ادھرزرعی یونیورسٹی کے سات طلبہ جن کے خلاف یوپی اے کے تحت پولیس نے کیس درج کیاہے کے والدین نے ملاقات کی اور جموںو کشمیر پولیس کے حکام کواس بات کایقین دلاکیاکہ مستقبل میں ان کے بچوں سے اس طرح کی کارروائی نہیں دہرائی جائے گی پہلی بار ان سے ایسی غلطی ہوئی ہے انہیں معاف کیاجائیں ۔ْوالدین کے مطابق پولیس نے انہیں یقین دلایاکہ معاملے پرہمدردانہ غور کیاجائیگا تاکہ زیرتعلیم طلبہ کامستقبل مخدوش ہونے سے بچ سکے ۔ ادھرعوامی حلقوں نے بھی جموں وکشمیرپولیس سے دردمندانہ اپیل کی کہ جن سات طلبہ کے خلاف یو اے پی اے کے تحت کیس درج کیاگیاہے وہ صرف ان سات طلبہ کامسئلہ نہیں بلکہ سات کنبے ان کے ساتھ وابستہ ہیں اگرنادانی مٰیںانہوںنے اسطرح کی کارروائی کی ہے ناناقابل برداشت ہے ا سے در گزر کیاجائے اور ان کے مستقبل کومخدوش ہونے سے بچانے کے لئے ا قدامات اٹھائے جائیں ۔یونیورسٹیوں کالجوں میں زیرتعلیم طلبہ سے تلقین کی کہ جوش کے ساتھ ہوش کاخیال رکھے جزباتی نابنیں اور خلاف قانون کارروائیوں سے دوررہنے کی کوشش کرے تاکہ ان کامستقبل تباہ وبرباد ہونے سے بچ سکیں ۔