شکار گاہ اور پنیر جاگیرترال میں36سال کے لمبے وقفے کے بعد فلم کی دوبارہ شوٹنگ
ترال ////ہندی فلم ’’زونی ‘‘ کے شوٹنگ کے سلسلے میںمنگل کے روز36سال کے لمبے بعد فلم کے ڈائر ایکٹر مشہور صحت افزا مقام شکار گاہ ترال پہنچے جس دوران انہوں نے یہاں شوٹنگ کی ۔کشمیرنیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق فلم کی شوٹنگ 1989ء میںوادی کے باقی علاقوں کے ساتھ ساتھ شکار گاہ ترال میں بھی ہوئی تھی جس کو سال1990میں رلیز ہونا تھا نہیں ہوئی ۔فلم زونی کے اس وقت کے ڈائر ایکٹر مظفر علی کے بیٹے شاد علی موجودہ فلم کے ڈائر ایکٹر نے بتایا کہ ہم ہی یہاں فلم کے شوٹنگ میں پہلے اور آخری تھے جنہوں نے یہاں فلم کی شوٹنگ کی ہے انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت15سال تھا اور فلم کے ڈائر ایکٹر میرے والد صاحب تھے ۔انہوں نے بتایا ہم نے شوچا کیوں نہ ہم واپس آئیں گے جہاں جہاں ہم نے اس وقت فلم کی شوٹنگ ،پانپور،شکار گاہ ترال،سرینگرمیں شوٹنگ کی تھی اور ہم نے دوبارہ انہیں مقامات پر شوٹنگ کی تھی ۔انہوں نے کہا دنیاں میں ہندوستان اور ہندوستان میں کشمیرکی مہان نوازی مشہور ہے ۔انہوں کہا کشمیر کے برابر دنیاں میں کوئی جگہ نہیں ہے انہوں لوگوں کے کشمیر کے خوبصورتی کو غلاظت سے صاف شفاف رکھنے کی اپیل کی ہے۔شکار گاہ میں فلم کی شوٹنگ کی خبر سنے کے ساتھ ہی لوگوں نے نوے کے ان پر امن پر سکون ماحول کو پھر سے یاد کیا ۔ترال میں اچانک فلم کی شوٹنگ کی خبر منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے ۔شکار گاہ ترال ایک ایسی صحت افزا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ جگہ ہے جہاں ملک کے اعلیٰ پائیہ سیاست دانوں نے کافی وقت گزارا جبکہ شیخ محمد عبد اللہ نے کئی بورڑ مٹنگوں کا انعقاد اسی جگہ پر کیا ہے ۔شکار گاہ میں مہاراجہ گرمیوں میں قیام اور اکثر شکار کھیلنے کے لئے آتے تھے اگر چہ یہاں کے لوگوں نے شکار گا ہ کو سیاحتی مقام کے طور بڑھاوا دینے کی بار بار اپیل کی ہے تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہوسکا ْ۔










