تاجروں کونئی حکومت سے معیشت کی بحالی کی امید

تاجروں کونئی حکومت سے معیشت کی بحالی کی امید

صنعتی و با غبانی شعبے کی بحالی اورٹیکسوں کا سر نو جائزہ لینے کی وکالت

سرینگر//صنعت کاروں اورتاجروں اور میوہ فروشوںنے نئی حکومت سے جموں کشمیر کی معیشت کو پٹری پر لانے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی شعبے میں نئی روح پھونکنے ،ٹیکس پالسیوں پر سر نو جائزہ اور با غبانی شعبے کو درپیش چلینجوں کا ازالہ کرنے پر زور دیا۔فیڈریشن آف چیمبرز آف انڈسٹریز کشمیر،جوائنٹ ٹریڈرس ایسوسی ایشن سٹی سینٹر کشمیر فروٹ گرورس یونین نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت مقامی صنعتوں، تجارت اور پھلوں کے شعبے کی بحالی کے لیے موثر اقدامات اٹھائے گی۔فیڈریشن آف چیمبرز آف انڈسٹریز کشمیر نے عمر عبداللہ اور ان کی کابینہ کے وزراء￿ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ نئی انتظامیہ صنعتی شعبے کو دوبارہ زندہ کرے گی، جو پچھلے ایک دہائی سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ فیڈریشن آف چیمبرز آف انڈسٹریز کشمیرکے صدر شاہد کاملی نے مقامی صنعتوں کی نازک حالت پر گہرے خدشات کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انکی نجمن نے کئی اہم مسائل کی نشاندہی کی، جن میں مختلف صنعتی پالیسیوں کی پیچیدگی، مقامی صنعتوں کے لئے یکساں پالیسی کی ضرورت، عوامی خریداری کی پالیسی کا فقدان، اور غیر کارآمد اثاثوں (این پی ایز) کے بڑھتے مسائل شامل ہیں۔دوسری جانب، جوائنٹ ٹریڈرس ایسو سی ایشن نے بھی عمر عبداللہ کو مبارکباد دی، اور ان کی 2014 کے سیلاب کے دوران دکانداروں کے ساتھ ہمدردی کو یاد کیا۔ انجمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تجارتی ٹیکس کی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور موجودہ قوانین میں تبدیلی کی جائے تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو۔ انہوں نے شہر کے مرکز میں ٹرانسپورٹ سروسز کے محدود داخلے کے باعث خریداروں کی کمی اور محدود پارکنگ کی جگہ کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔کشمیر فروٹ گرورس ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے عمر عبداللہ کے دور میں پھلوں کی صنعت کی ترقی پر روشنی ڈالی اور توقع ظاہر کی کہ نئی حکومت با غبانی کے شعبے کی چیلنجز کا مؤثر حل فراہم کرے گی۔تمام انجمنیں نئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے اور اپنے مسائل کو جلد حل کرنے کی امید رکھتی ہیں، تاکہ جموں و کشمیر کی معیشت کو بہتر بنایا جا سکے۔