Omar Abdullah

بی جے پی کے ساتھ کوئی اتحادکی کوئی گنجائش نہیں

نظریاتی طور پر دونوں جماعتوں کا ہم خیال ہونا ممکن نہیں ۔ عمر عبداللہ

سرینگر///وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوموار کے روز اس بات کو دوہرایا کہ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی میں کوئی اتحاد نہیں ہے اور ناہی یہ کبھی ممکن ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نظریاتی طور پر دونوں جماعتوں کا موقف جد ا جدا ہے اور ہم کبھی ہم خیال نہیں ہوسکتے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پیر کو نیشنل کانفرنس کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کسی بھی طرح کے اتحاد کے بارے میں کسی بھی امکان کو مسترد کردیا۔وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا کے ممکنہ این سی، بی جے پی اتحاد کے بارے میں اشارے دینے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا،’’ہم کسی اتحاد (بی جے پی کے ساتھ) کی بات نہیں کر رہے ہیں، نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت ہے۔ ہمارے خیالات بھی ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ اگر ہم جموں و کشمیر کی بات کریں تو ہمارے خیالات بالکل مختلف ہیں۔انہوں نے کہا، “جاری بجٹ اجلاس میں ایوان میں ریاست سمیت تمام مسائل پر بحث کی جائے گی۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس سے قبل بھی اس طرح کا بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی اور این سی میں کوئی اتحاد نہیں ہے اور ناہی ایسا ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا تھا کہ نئی دلی میں جو بھی سرکار ہوگی جموں کشمیر کی سرکار کو اس کے ساتھ رابطہ رکھنا ہی ہوگا ۔ انہوںنے بتایا کہ عوامی فلاح و بہبود ، جموں کشمیر میں ترقی اور دیگر مسائل کے حوالے سے انہیں وزیر اعظم ،وزیر داخلہ اور دیگر مرکزی لیڈران کے ساتھ ملنا ہوتا ہے اور یہ میری منصبی ذمہ داری ہے ۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس کے تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پٹھانیا، جس نے ممکنہ تعاون کا اشارہ دیا، عبداللہ نے واضح کیا کہ ایسا منظر نامہ نہ تو زیر بحث ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے سیاسی نظریات اور ترجیحات بالکل برعکس ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر سے متعلق مسائل پر۔ اس طرح کی شراکت داری کی کوئی گنجائش یا ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کلیدی خدشات بشمول جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی پر قانون ساز اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران فعال طور پر غور کیا جائے گا۔