پٹنہ: بہار میں صحت کی سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ سے مریض بڑی تعداد میں بہتر علاج کے لیے ریاست سے باہر جانے پر مجبور ہیں۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بڑی کمی ہے، جبکہ زیادہ تر بلڈ بینک بغیر قانونی لائسنس کے کام کر رہے ہیں۔
ریاستی اسمبلی میں جمعرات کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2016 سے 2022 کے دوران صحت عامہ کی سہولیات اور صحت کے انتظامات کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جس میں کئی خامیاں سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق بہار میں مارچ 2022 تک اندازاً 12.49 کروڑ آبادی کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے مطابق 1,24,919 ڈاکٹروں کی ضرورت تھی، جبکہ جنوری 2022 تک صرف 58,144 ایلوپیتھک ڈاکٹر دستیاب تھے۔ یہ تعداد ڈبلیو ایچ او کے معیار سے 53 فیصد اور قومی اوسط سے 32 فیصد کم ہے۔
ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ سینٹرز میں 61 فیصد اور 56 فیصد منظور شدہ عہدے خالی ہیں۔ تیسری سطح کے اسپتالوں اور آیوش مراکز میں بھی بالترتیب 49 فیصد اور 82 فیصد عہدے خالی ہیں۔ مجموعی طور پر صحت کے شعبے میں 60 فیصد عہدے خالی پائے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ زیادہ تر اسپتالوں میں ضروری دوائیں دستیاب نہیں تھیں، کئی جگہ آپریشن تھیٹر بند پڑے تھے اور وینٹی لیٹرز بغیر استعمال کے رکھے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بدانتظامی کی ایک اہم وجہ فنڈز کا عدم استعمال ہے۔ صحت کے شعبے میں مختص 21,743 کروڑ روپے خرچ ہی نہیں کیے گئے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی حالت اور بھی خراب پائی گئی۔ صحت کے ڈائریکٹوریٹ، ریاستی ڈرگ کنٹرولر، فوڈ سیفٹی، آیوش اور میڈیکل کالجوں میں بھی 49 فیصد عہدے خالی ہیں، جس سے شعبے کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔










