بھارت کی پالیسی ’’بنیادی اصولوں کی پیروی اور مستقبل کی طرف مارچ‘‘ کا امتزاج

ہمارے کسان پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کیلئے ٹکنالوجی کا فعال طور پر استعمال کر رہے :وزیر اعظم مودی

سرینگر //بھارت کی پالیسی ’’بنیادی اصولوں کی پیروی اور مستقبل کی طرف مارچ‘‘ کا امتزاج ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ وزیر زراعت کی ذمہ داریاں صرف معیشت کے ایک شعبے کو سنبھالنے تک محدود نہیں ہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق G20 وزرائے زراعت کے اجلاس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام معززین کا ہندوستان میں خیرمقدم کیا اور کہا کہ زراعت انسانی تہذیب کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر زراعت کی ذمہ داریاں صرف معیشت کے ایک شعبے کو سنبھالنے تک محدود نہیں ہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف بھی بڑھ جاتی ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات کاذکر کیا کہ زراعت عالمی سطح پر 2.5 بلین سے زیادہ لوگوں کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے گلوبل سائوتھ کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے وبائی امراض کے اثرات اور بگڑتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تنائو سے سپلائی چین میں خلل واقع ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے معاملے پر بھی گفتگو کی جس کی وجہ سے موسم کے شدید واقعات زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں۔زرعی شعبے میں ہندوستان کے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہندوستان کی ‘بنیادی اصولوں کی پیروی کی طرف واپسی’ اور ‘مستقبل کی طرف مارچ’ کی پالیسی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہندوستان قدرتی کاشتکاری کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے چلنے والی کاشتکاری کو فروغ دے رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’پورے ہندوستان کے کسان اب قدرتی کھیتی کو اپنا رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مصنوعی کھاد یا کیڑے مار ادویات کا استعمال نہیں کر رہے ہیں لیکن ان کی توجہ زمین کو جان دار بنانے، مٹی کی صحت کی حفاظت، ‘فی قطرہ، زیادہ فصل’ پیدا کرنے، اور نامیاتی کھادوں اور جراثیم کشی کے بندوبست سے متعلق تدابیرکو فروغ دینے پر ہے۔ وزیر اعظم نے گفتگو کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ، اس کے ساتھ ہی ہمارے کسان پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ٹکنالوجی کا فعال طور پر استعمال کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے کھیتوں میں شمسی توانائی پیدا کرنے اور استعمال کرنے، فصلوں کے انتخاب کو بہتر بنانے کے لیے سوائل ہیلتھ کارڈ کے استعمال، اور غذائیت سے بھرپور مادوں کے چھڑکائو اور ان کی فصلوں کی نگرانی کے لیے ڈرون کے استعمال کی مثال دی۔مودی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ ‘ امتزاجی طریقہ کار ’ زراعت کے کئی مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔