سرینگر// بھارت چین کے مابین تعلقات میں پیش رفت پانچ برسوں کے بعد دونوں ممالک کے مابین براہی راست پروازوںکاآغاز ہوگا ہائیڈل پروجیکٹوں ایٹمی ہتھیاروں کی لسٹ ایک دوسرے کوفراہم کی جائے گی ۔ویزہ سہولیات میں نرمی لائے جائے گی ثقافت کوفروغ دیاجائے گااور بھارت نے چینی کمپنیوں پر عائدپابندی کوہٹانے کے بارے میں غورکرنے کا یقین دلایا۔اے پی آئی نیوز کے مطابق بھارت کے خارجہ سیکریٹری جوان دنوں بیجنگ کے دورے پرہے دنوںممالک کے مابین 27جنوری کو بات چیت کاپہلادور ہوا۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے نقاط سامنے رکھے جن پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ پہلے دور کے ملاقات کے بعد چین او ربھارت کے خارجہ سیکریٹریوں نے زررائع ابلاغ کوتفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا بھارت چین کے مابین تعلقات میں بڑی پیش رفت ہوئی ۔دونوں ممالک نے 2019کے بعد پروازیں پھر سے شروع کرنے کافیصلہ کیاہے او رکئی معاہدوںپردستخط کئے گئے۔ ہرسال دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں ہائیڈل پروجیکٹوں ایٹمی تنصیبات کی لسٹ ایک دوسرے کوفراہم کرینگے ۔ویزہ سہولیات میں نرمی لائی جائے گی ۔زراعت تعلیم کھیل کو دصحت میں ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کیاجائیگا۔ثقافتی دورے کئے جائینگے اور دنوں ممالک ہرچھ ماہ کے بعد تعلقات کومزیدمستحکم بنانے مسائل کوحل کرنے سرحدوںکاتعین کرنے کے لئے ایک دوسرے سے ملاقی ہونگے۔ بھارت کے خارجہ سیکریٹری نے دورہ بیجنگ کوکامیاب قرا ردیتے ہوئے کہاکہ ہم نے اس بات کاعہدکیاکہ ماضی کی تلخیوں کابلاکرایک نئی بنیاد فراہم کرنے کے لئے اقداما ت اٹھائے جائے جس سے اعتماد بحال ہوسکے۔
ہم نے چین کی انتظامیہ کو یقین دلایاکہ جن کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ہم ان کاباریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد پابندی برقرا ررکھنے یاہٹانے کے بارے میں فیصلہ لینگے ۔انہوںنے کہابہت جلد چین کے خارجہ سیکریٹری ایک اعلیٰ سطحی وقف لے کربھارت کے دورے پرآئے گے ۔دونوںملک کے سیکریٹریوںنے کہاسب سے اہم مسئلہ سرحدوںکاتیعن کرنا ہے جسپرملٹری کمانڈروں کی سطح پرسیاسی اور سفارتی محاذپر کام جاری رہے گا ۔










