بچوں کی مستی کے بغیر عید کی خوشی ۔؟

بچوں کی مستی کے بغیر عید کی خوشی ۔؟

سرینگر/ وی او آئی// وادی کشمیر میں عید الاضحی کے موقعے پر جہاں عام لوگوں میں خوشی ہوتی ہے وہیں بچے اس دن کا پورے سال انتظار کرتے رہتے ہیں ۔ عید الاضحی جس کو عرف عام میں بکرا عید کہا جاتا ہے پورے ایک سال بعد پھر دستک دیتی ہے ۔ بچوں کیلئے عید قربان یعنی بڑی عید نہ صرف ایک تہوار ہوتا ہے بلکہ یہ ان کیلئے موج مستی ، کھیلنے کودنے اور اپنی مرضی کے مطابق عیدی خرچ کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ عام دنوں پر والدین بچوں کو اگر کچھ پیسے سکول جاتے وقت یا ٹیوشن جاتے وقت دیتے ہیں تاہم گھر پہنچنے پر بچوں سے پائی پائی کا حساب لیا جاتا ہے کہ سکول کے کنٹین میں کیا خریدا، آئیس کریم خردی، بسکٹ خریدا یا چاکلیٹ ۔ سکول کے احاطے سے باہر ان کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ گھر پہنچنے تک کوئی چیز کسی دکاندار سے خرید لیں تاہم عیدین ہی ایسے دو مواقعے ہوتے ہیں جس پر بچے اپنی عیدی اپنی مرضی سے خریدتے ہیں ۔ وادی کشمیر میں آج بھی بہت حد تک یہ رواج موجود ہے کہ بچے عید کے موقعے پر دیگر بچوں کے ہمراہ کھیلنے باہر جاتے ہیں ، پٹاخے سرکتے ہیں ، آئس کریم کھاتے ہیں ، جھولا جھولتے ہیں اور دیگر مزے کرتے ہیں اور تھک ہار کر شام کو گھر واپس پہنچ جاتے ہیں ۔ اکثر بچے تو دن کا کھانا بھی نہیں کھاتے کیوں کہ پورے ایک سال تک اس عید کا انتظار کرنے کے بعد وہ کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ تاہم یہاں یہ بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ عید کی خوشی اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ دور جانے کی اجازت نہ دیں کیوں کہ آج کل ٹریفک بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور لوگ عید الاضحی کے موقعے پر قربانی کا گوشت رشتے داروں میں تقسیم کرنے کے دوران زیادہ تر موٹر سائکل اور گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور بہت جلدی میں رہتے ہیں اسلئے سڑک حادثات کا بھی خدشہ بڑھتا ہے اس لئے بچوں کی توجہ اس جانب ضروری کرائی جانی چاہئے کہ سڑک پر چلنے کے دوران آس پاس گاڑیوں اور موٹر سائکلوں سے بچتے چلنا چاہئے ۔ باقی عیدین کی خوشی بچوں کے بغیر پھیکی رہتی ہے اگر بچے ہلہ گلہ نہ کریں اور موج مستی نہ کریں تو پھر عید کا کیا مزہ ۔بشکریہ (وی او آئی )