آئی سی ڈی ایس اسکیم نافذالعمل ، جموںوکشمیر میں قائم شدہ آنگن واڑی مراکزبرائے نام ، صورتحال توجہ طلب
سرینگر//آئی سی ڈی ایس مرکزی سرکار کی طرف سے شروع کی گئی ایسی اسکیم ہے جس کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کرتی ہے جس کی رو سے ریاستوں میں پروگرام اور پلاننگ کے ذریعے عورتوں اور بچوں کو اس اسکیم کے تحت لایا جاتا ہے۔ تاکہ ان کی نفسیاتی، جسمانی اور ذہنی نشونما ہوسکے۔ کشمیر پریس سروس کی مونیٹرنگ کے مطابق ہندوستانی حکومت کے وزارت سماجی بہبود کے تحت 1975 میں بچوں کی بھوک اور غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز پروگرام کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا تھا اور جموں کشمیر میں بھی یہ اسکیم کافی عرصہ سے نافذالعمل ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 6 سال سے کم عمر کے بچوں سے وزارت سماجی بہبود کی طرف سے بچوں کی نشوونما اور ان کی صحت کا خیال رکھنے کی غرض سے مقوی غذا فراہم کیا جاتا ہے ۔ تاکہ یہ بچے کم عمر ی میں مقوی غذا کی عدم فراہمی کی وجہ سے فاقہ کشی کے شکار نہ ہوں اور ان میں شرح اموات گرجائے۔ یہ اسکیم بچوں کی ماؤں کے صحت کا خیال رکھنے اور ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھی لاگو کی جارہی ہیں۔ اس کیلئے حکومت کی طرف سے مختلف جگہوں پر آنگن واڑی ورکروں، ہلپروں اور ان کے اوپر سپروائزرس کو تعینات کیا جاتا ہے جو چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسروں کے تحت کام کرتے ہیں گوکہ حکومت کی طرف سے ایک باضابطہ پلان اور پروگرام وضع کیا گیا ہے۔ تاکہ کمزور طبقے کے خاندانوں میں صحت اور بچوں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ ان کے ماؤں کی غذائی ضروریات کو فراہم کرنے کے علاوہ ان بچوں کو بنیادی تعلیم بھی فراہم کی جائے۔ ا س وقت جموں کشمیر میں درجنوں آئی سی ڈی ایس کے پروجیکٹ کام کررہے ہیں۔ جو مختلف اضلاع میں اپنا بنیادی کام کرنے کے ذمہ دار ہیںاور ہزاروںآنگن واڑی سینٹر دونوں صوبوں کے طول و عرض میں قائم ہیں۔ باوثوق ذرایع کے مطابق ایک دہائی قبل ان سنٹروں میں جہاں بچوں اور ان کی مائوں کی نشوونما کا خیال رکھنے کیلئے مقوی غذائیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عمل جاری تھا وہیں عورتوں کو مختلف ہنر سکھانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح سے یہ محکمہ نہ صرف انتہائی اہم ہے بلکہ اس کے ذریعے غریبوں ، مفلسوں اور خط افلاس سے نیچے گذر بسر کررہے خاندانوں کیلئے یہ ایک خوش آئند قدم تھااور ان سینٹروںکو چلانے کے کیلئے محکمہ کوسرکار کی جانب سے اچھی خاصی رقومات واگذار کی جاتی تھی ۔لیکن گذشتہ کئی برسوں سے یہ قائم شدہ آنگن واڑی مراکز برائے نام ہیں کیونکہ صرف نام پر ایسے سینٹر درج کئے گئے ہیںجن میں بچوں اوران کی ماؤں کاکوئی حقیقی ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔ آنگن واڑی سنٹروں میں تعینات ورکرس ،ہیلپرس کو ان سنٹروں پر مامور رکھنے کے بجائے دوسرے دفتروں میں مختلف کاموں کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے ۔اگر چہ کئی سال قبل باضابط طور خوراک، دال اور تیل بچوں کیلئے سپلائی کی جاتی تھی لیکن اس دوران اس میں خرد وبرد کرکے حقد اراں کو نظر انداز کیا جارہا تھا جبکہ دفتری عملہ اس اسٹاک میں بند ر بانٹ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے تھے ۔یہاں تک آئی سی ڈی عملہ کی لاپرواہی سے بچا ہوا اور سڑا ہوا خوراک یا تو دریا برد کرتے تھے یادکانداروں میں فروخت کرتے تھے۔ جو غریب اور محتاج عوام کے حق پر صریحاً شب خون ہے۔اس حوالے سے کشمیر پریس سروس نے ان قائم شدہ آنگن واڑی سنٹروں کی موجودہ وقت میں زمینی صورتحال سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا ہے کہ آجکل بیشتر آنگن واڑی سنٹروں کو اسٹاک فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور ان سنٹروں میںتعینات ورکرس اور ہیلپرس کو محکمہ صحت ،تعلیم،دیہی ترقی اور دیگر محکمہ جات میں کام کرنے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے جبکہ آنگن واڑی سنٹروں کو اسٹاک فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔بتا یا جاتا ہے کہ اس طرح اس عظیم اسکیم کا اصلی مقصد ہی فوت ہوا ہے ۔اس محکمے کو صحیح معنوں میں کام کرانے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ ایسے تمام سینٹروں کی باضابط چیکنگ کی جائے اور ایسے سنٹروں میں رجسٹرارڈبچوں اور خواتین کی فزیکل جانچ کی جائے تاکہ ان میں متعین افسران اور کارکناں حکومت کو غلط رپورٹ پیش کرکے خزانہ عامرہ کو لوٹنے کا دھندا جاری نہ رکھ سکیںاور اس میں کام کرنے والی ورکرس وہلپرس کو اسی کام پر خصوصی طور مامور رکھا جائے ان کی ماہانہ تنخواہیں بڑھائی جائیں اور ان سنٹروں کو باضابطہ غذائی اجناس کا اسٹاک اور اسکیم کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔تاکہ اس کا مقصد پورا ہوسکے ۔










