3بار ریاستی ایوراڈ کیلئے سفارشی دساویزات کے باوجودشبیر حسین خاکی اعزاز سے محروم
سرینگر//بستر مرگ پر خون کے ضرورتمند مریضوں کیلئے امید کی کرن اور’بلڈ بردرآف کشمیر‘ کے نام سے مشہور پائین شہر کے شبیر حسین خاکی،کے سفارشی دستاویزات اگر چہ11برسوں میں3بار عمومی انتظامی محکمہ میں ریاستی ایوراڈ کیلئے پہنچ گئے،تاہم شبیر حسین کو گلہ ہے کہ ہر بار یا تو انکو ردی کی ٹوکریں کی نذر کردیا گیا یا،وہ پراسرار طور پر غائب ہوئے۔ شبیر حسین خاکی نے رضا کارانہ طور پر اب تک 189بارخون کا عطیہ پیش کیا۔ شبیر خاکی کا خون ’’او نگیٹو‘‘(“O” -ve) ہے،جو کی محال ہی پایا جاتا ہے،اور اگر اس گروپ میں کوئی مریض خون کی کمی میں مبتلا ہوتا ہے،تو اس خون کو حاصل کرنے میں کافی دشواریاں پیش آتی ہیں،تاہم ان لوگون کیلئے شبیر مسیحا سے کم نہیں۔شبیر خاکی کی طرز پر ہی دیگر عطیہ خون کنداں بھی اس کو عبادت کا ایک درجہ سمجھتے ہیں۔ شبیر حسین خاکی غالباً بھارت میں پہلے ایسے شخص ہے،جنہوں نے اس وقت سب سے زیادہ خون کا عطیہ پیش کیا ہے،تاہم انہیں اس بات کا گلہ بھی ہے کہ دوسرے شعبہ جات میں سماجی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے برعکس طب کے میدان میں سماجی کارکنوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی ہے۔ خاکی کا دعویٰ ہے کہ3بار انکے سفارشی دستاویزات کو عمومی انتظامی محکمہ میں ریاستی ایورڈ کیلئے روانہ کیا گیا تاہم ہر بار انہیں نا امید کیا گیا۔2010میں اس وقت کے ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے صوبائی کمشنر کشمیر کو ایک مکتوب زیر نمبر575/DCS/11محررہ8جنوری2010روانہ کیا جس میں صوبائی کمشنر کشمیر کے ایک مکتوبDiv.Com/Dev-164/2411محررہ3دسمبر2010 کا حوالیہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تحصیلدار نارتھ کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شبیر حسین خان نے خون کے عطیہ کے مقدس مقصد کیلئے126بار عطیہ خون پیش کیا ہے،جبکہ درخواست دہندہ نے متعلقہ اسناد اور تصاویر بھی پیش کی ہے۔ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ تحصیلدار نارتھ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے درخواست دہندہ کی جانب سے مثالی انسانی خدمت انجام دینے کیلئے انکے نام کی سفارش ریاستی ایورڈ کیلئے کی جاتی ہے۔ صوبائی کمشنر کشمیر نے اس سفارشی نوٹ میں پیش رفت کرتے ہوئے عمومی انتظامی محکمہ کے سیکریٹری کو ایک مکتوب زیر نمبر Div.Com/Dev-164/3272-73محررہ29جنوری2011 روانہ کیا جس میں شبیر حسین خاکی کو ایک بہتر سماجی کارکن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ کئی ایک غیر سرکاری رضاکار انجمنوں،جن میں اںڈئن رید کراس سوسائٹی،کارڈی نیشن کمیٹی سرینگر،اہل بیت طاہرین چیرٹیبل ٹراسٹ و بلڈ بنک شامل ہیں،جڑا ہوا ہے،جبکہ کئی آفات سماویٰ کے موقعوں پر ریلیف کی تقسیم کاری میں شامل ہونے کے علاوہ برلا اڈیسہ میں تیسری قومی کانفرنس و ورکشاپ برائے والنٹری بلڈ ڈونیشن آرگنائزشن اینڈ موٹویٹرس میں انڈئن ریڈ کراس سوسائٹی کے جموں کشمیر برانچ کی جانب سے نمائندگی کرچکا ہے۔ صوبائی کمشنر کشمیر نے بھی ریاستی ایورڈ کیلئے شبیر حسین خان کی سفارش کی۔خان کا کہنا ہے کہ تاہم انہیں نا امید کیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ وقت گزرتا گیا تاہم انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور8برس بعد ایک بارصوبائی کمشنر کشمیر نے ایک مکتوب زیر نمبر Div.Com/Dev-/92/2018/2672-72محررہ2مئی2018عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری کو روانہ کیا جس میں انڈئن ریڈ کراس کے مقامی شاخ کشمیر کے اعزازی سیکریٹری کی جانب سے مکتوب پہنچا ،جس میں کہا گیا کہ شبیر حسین خان نے2005کے بھیانک زلزلہ میں اوڈی اور2014کے تباہ کن سیلاب میں رضاکارانہ طور پر کام کیا جبکہ یاتریوں کی مدد کرنے کے علاوہ اب تک انہوں نے158پوائنٹ خون عطیہ پیش کیا ہے۔ صوبائی کمشنر کشمیر نے شبیر خان کو اسٹیت ایورڈ کیلئے ممکنہ مستحق قرار دیتے ہوئے انکے نام کی تجویز پیش کی۔ تاہم اس بار بھی شبیر خان کو یاس اور انامید ہی ہاتھوں میں لگی اور اسٹیت ایورڈ نہیں ملا۔2020 پھر ضلع انتظامیہ سرینگر نے صوبائی کمشنر کشمیر کے نام ایک اور مکتوب زیر نمبر7492-93/Dcs/Esttمحررہ18جنوری2020روانہ کیا،جس میں کہا گیا کہ شبیر خان نے169پوائنٹ خون عطیہ پیش کئے ہیں،اس لئے اس مقدس مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ریاستی ایورڈ سے نوازنے کی سفارش ہے۔اس معاملے پر صوبائی کمشنر کشمیر نے ایک اور مکتوب زیر نمبر Div.Com/Dev-/74/2019/5615محررہ22جنوری2020 جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری کو روانہ کیا جس میں ایک بار پھر انہیں ریاستی ایورڈ سے نوازنے کی سفارش کی گئی۔ْاس بار بھی تاہم شبیر خاکی اعاز سے محروم ہوئے۔ شبیرخان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھ ایورڈ ،اعزاز یا انعام کیلئے سماجی کام یا خون کا عطیہ پیش نہیں کر رہے ہیں،تاہم سرکاری سطح پر انکے کام کو تسلیم کرنے سے اس میدان میں مزید لوگ بھی آسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہر شعبے میں کارہائے نمایا ں کام انجام دینے کیلئے اعزازات سے نوازا جاتا ہے تو انہیں کیونکر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ خاکی نے کہا کہ تاہم وہ مطمئن ہے کہ اس کو بیماروں اور ضرورتمندوں کی دعائیں مل رہی ہے اور وہ یہ سب کچھ رضائے اللہ کیلئے ہی کر رہے ہیں۔شہر خاص کے کمان گر پورہ حول سے تعلق رکھنے والے شبیر احمد خان خاکی نے اب تک رضاکرانہ طور پر170پوائنٹ خون کا عطیہ پیش کیاہے،جبکہ انکا دعویٰ ہے کہ مرکزی زیر انتظام والی کسی بھی اکائی میں یہ ایک ریکارڈ ہے۔ شبیر خاکی نے 1980سے خون کا عطیہ رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کی شروعات کی جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ شبیر خاکی آج بھی یاد ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے اپنی والدہ کیلئے خون دیا تھا،اور اس دن انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ عطیہ خون کس قدر ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے’’ مجھے کئی ایک ایسے واقعات بھی یاد ہے،جب خون کی عدم دستیابی سے مریض موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے،اور میرے خون نے انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حیات بخش کیا،اور اس لمحہ جو خوشی مجھے حاصل ہوئی،اس کا متبادل دنیا میں اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔‘‘ شبیر احمد کا کہنا ہے کہ تاہم سماجی میڈیا کی وجہ سے خون دینے والے رضاکاروں کو کافی سہولیات میسر ہوئی،جس کی وجہ سے بھر وقت وہ خون کا عطیہ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’ پہلے ریڈیو اور ٹیلی ویڑن پر ہی انہیں معلوم پڑتا تھا،تاہم موبائل اور سماجی میڈیا نے جہاں دیگر شعبوں میں انقلاب لایا وہی رضاکاروں کیلئے یہ بھی منافع بخش ثابت ہوا،کیونکہ انہیں بروقت خبر ملتی ہے‘‘۔










