وادی کشمیر میں بڑے بڑے اجتماعات ، منعقد ہوئے ، موسمی میں بہتری کے بعد بچوں کے چہرے کھل اُٹھاے
سرینگر//پورے برصغیر میں بشمول ہندوپاک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیرمیںبھی عید الفطر کی تقریبات ہفتہ کے روز منائی گئیں اورامن و سلامتی اور خوشحالی کیلئے دعائیں کی گئیں۔ ادھر وادی میں بھی عید الفطر کی تقریبات تزک و احتشام اور عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئیں جس دوران مختلف مساجد ، آستانوں اور امام باڑوں میں عید عید اداکی گئی تاہم تواریخٰ جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب ایک بار پھر عید کے موقعے پر خاموش رہے کیوں کہ انتظامیہ نے جامع مسجد شریف میں عید الفطر کی نماز اداکرنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ سی این آئی کے مطابق ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور دیگر ممالک میں ہفتہ کے روز عید الفطر کی تقریبات منائی گئیں جبکہ تاریخی جامع مسجد نوہٹہ کو چھوڑ کر، ابر آلود موسمی حالات کے درمیان جموں و کشمیر بھر میں بڑی تعداد میں مومنین نے عید الفطر کی نماز ادا کی۔ جہاں کئی مقامات پر خصوصی اجتماعی نمازیں وسیع و عریض عیدگاہوں میں ادا کی گئیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں مسلمان وادی بھر میں حضرت بل اور دیگر مساجد اور آستانوں بشمول خانیار ور سید یعقوب شاہ کے آستانوںپر خصوصی دعائیں کرنے کے لیے صبح سے ہی جمع تھے۔سری نگر کی دیگر مساجد اور درگاہوں بشمول مسجد جمعیت اہل حدیث گاو کدل، آثارشریف جناب صاحب صورہ، آثارشریف شہری کالاش پورہ، زیارت مخدوم صاحب اور خانقاہِ معلی میں خاصی تعداد میں نمازیوں کی بھیڑ دیکھی گئی۔ شمالی کشمیر میں جامع مسجد بانڈی پورہ، جامع مسجد بارہمولہ، جامع مسجد کپواڑہ، مسجد المرشدین خوشحال صاحب بمہامہ، جامع مسجد ہندواڑہ اور دیگر مقامی مساجد میں نمازیں ادا کی گئیں۔ جنوبی کشمیر میں اننت ناگ قصبے کی جامع مسجد حنفیہ، جامع مسجد اہل حدیث، بیت المکرم اور رحمت دید مسجد میں نمازیں ادا کی گئیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع زیارت شریف کھرم کنڈ، اشمقام اور بجبہاڑہ میں بھی نمازیں ادا کی گئیں۔ کولگام میں مرکز جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ خانکہ ترال، جامع مسجد شوپیاں اور جامع مسجد پلوامہ میں بھی بڑے اجتماعی اجتماعات دیکھے گئے۔ سری نگر میں، حکام نے ابتدائی طور پر تاریخی مسجد میں نماز کی اجازت دینے کا اشارہ دینے کے بعد جامع مسجد نوہٹہ میں نماز عید کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسجد کے دروازے سکیورٹی گرڈ کی طرف سے صبح سویرے بند کر دیے گئے تھے اور حکام کے احکامات پر عمل درا?مد کے لیے مسجد کے اندر اور ارد گرد تعینات کیے گئے تھے۔ جامع مسجد کو عید کے موقع پر بند کرنے کے حکام کے فیصلے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، مفتی اعظم، جموں و کشمیر، ناصر الاسلام نے کہا کہ وادی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، حکام کو تاریخی مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ ان کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی تواریخی جامع مسجد میں خاص مواقوں پر نماز پر پابندی کی سخت مذمت کی ۔










