filtration plant constructed at Badbag Qaziabad

بدبگ قاضی آباد میں2014میں4 کروڑروپے کی لاگت سے تعمیرشدہ فلٹریشن پلانٹ ناکارہ

30ہزار نفوس پر مشتمل آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم،حکام سے کی فوری توجہ دینے اورکارروئی کرنے کا مطالبہ

ہندوارہ//بدبگ قاضی آباد کے لوگوں نے محکمہ جل شکتی ڈویڑن ہندوارہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جل شکتی کے افسران کی عدم توجہی کے باعث بدبگ نامی گاوں کے عشپورہ سکیم فلٹریشن پلانٹ ناکارہ ہوگیا ہے وہ صرف نام پلانٹ رہا ہے۔جے کے این ایس نامہ نگارطارق راتھر کے مطابق متاثرہ دیہات کے لوگوں نے کہاکہ اس فلٹریشن پلانٹ سے 30سے زائد گاوں منسلک ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ 6 سال قبل اس فلٹریشن پلانٹ پر کام شروع کیا گیا تھا اور بعد میں اسے ادھورا چھوڑ دیاگیا۔لوگوں کے بقول اس فلٹریشن پلانٹ کی دیوراوں میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور اس میں جمع پانی ان دارڈوں سے نکل جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس کی طرف کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ۔مقامی لوگوں کیساتھ بی ڈی سی قاضی آباد نے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس فلٹریشن پلانٹ پر 4 کروڑ روپے خرچ کئے گئے لیکن وہ پیسے ضائع ہوگئے ہیں۔ اس فلٹریشن پلانٹ میں ایک سنپ بنایا گیا جس کا نہ کوئی چھت اور نہ کوئی ڈھکن بنایا گیا،اور اسے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اس میں سے جمع خانی گائوں کو سپلائی کیا جارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ اس کھلے سنپ میں جانور بھی پانی پیتے ہیں اور یہی پانی لوگوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں کتنے اور دیگر جانوربھی گرسکتے ہیں بارش کا پانی درختوں کے پتے دیگر کوڈا کرکٹ اس سنپ میں جمع ہو جاتا ہے اور یہی پانی 30 سے زائد گاوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ کروڑوں روپے خرچ کرکے اس فلٹریشن پلانٹ کو ویسے کے ویسے چھوڑا دیا گیا،یہاں نہ کوئی افسریاانجینئر دورہ کرتا ہے،اورنہ ہی کوئی ملازم نظر آتے ہیں ۔ناراض لوگوں نے کہا محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی اور لاپرواہی کی وجہ سے اس فلٹریشن پلانٹ کی حالت خستہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا ایک طرف سرکار اور محکمہ جل شکتی بلند بانگ دعوے کررہاہے کہ 2023تک ہر گھر تک نل کے زریعے جل پہنچایا جائے گا لیکن یہاں سرکار اور محکمہ جل شکتی کے ان دعوں کے پول کھل جاتی ہے،اوریہ سارے دعوے سراب ثابت ہورہے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہاں کی ایک وسع آبادی نے کبھی فلٹریاصاف پانی دیکھا بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس فلٹریشن پلانٹ کی فنسنگ کیلئے 90لاکھ روپے واگزار ہوئے وہ فنسنگ بھی نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے لفٹنٹ گورنر سے مطالبہ کیا کہ بدبگ قاضی آباد میں 4 کرروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے فلٹریشن پلانٹ کی بدحالے کی تحقیقات کرائی جائے اور متعلقہ انجینئروں،افسروں اور ٹھیکیداروں سے حساب لیا جائے ۔