بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور نقصانات کو روکنے کیلئے آر ڈی ایس ایس کو نافذ کیا جا رہا ہے ۔ عمر عبداللہ

بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور نقصانات کو روکنے کیلئے آر ڈی ایس ایس کو نافذ کیا جا رہا ہے ۔ عمر عبداللہ

جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور نقصانات کو روکنے کیلئے ریپیمڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم ( آر ڈی ایس ایس ) کو نافذ کیا جا رہا ہے ۔ قانون ساز اسمبلی میں ممبر شکتی راج پریہار کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ ، جن کے پاس پاور ڈیولپمنٹ کا چارج بھی ہے ، نے کہا کہ جے اینڈ کے کی منتقلی اور تقسیم کے نقصانات ہندوستان میں سب سے زیادہ ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ جیسی پڑوسی ریاستوں کے مقابلے میں یہ نقصانات نمایاں طور پر زیادہ ہیں اور جب تک ہم اس صورتحال پر قابو نہیں پا لیتے ہمارے موجودہ اے ٹی اینڈ سی نقصانات 50 فیصد کے لگ بھگ ہیں ۔ ہمیں آہستہ آہستہ اس کو کم کرنا پڑے گا اور اسے پڑوسی ریاستوں کی سطح کے مطابق لانا پڑے گا ۔ اس کیلئے آر ڈی ایس ایس اسکیم پر عمل درآمد کیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ ممبر کے حلقے کیلئے ریپیمڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم ( آر ڈی ایس ایس ) کے تحت مختص اور استعمال ہونے والے کل فنڈز کے بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آر ڈی ایس ایس کے تحت سمارٹ میٹرنگ کے کاموں کے علاوہ مختلف نقصان میں کمی ( ایل آر ) کاموں کیلئے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل آر کے کاموں کیلئے فنڈز کو انفرادی حلقوں کی بجائے ضلعی سطح پر منظور کیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ستمبر 2023 میں دئیے گئے کاموں کے ساتھ ضلع ڈوڈہ میں ایل آر کے کاموں کیلئے منظور شدہ لاگت 86.28 کروڑ روپے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کاموں کیلئے فنڈز منسٹری آف پاور ( ایم او پی ) کے ذریعہ منصوبوں کی پیش رفت کی بنیاد پر مختلف قسطوں میں جاری کی گئی ہیں ۔ اب تک دو قسطوں میں 17 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں ان دونوں کو مکمل طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ اس اسکیم کے اصولوں کے مطابق اگلی قسط کیلئے فنڈز طلب کئے جا رہے ہیں ۔ آر ڈی ایس ایس پروجیکٹس کی سست رفتاری کے بارے میں خدشات کو دور کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ پیکج کی منظوری کے حکم کے اجراء کے بعد ( ڈوڈہ ڈسٹرکٹ سمیت ) 31 مارچ 2023 کو پہلی بار پیش کیا گیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 12.25 فیصد پیش رفت حاصل کی گئی ہے اور کام بغیر کسی تاخیر کے پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام مقررہ مدت 31 مارچ 2026 کے اندر مکمل ہو جائیں گے ۔