بانڈی پورہ میں جمعرات کو بھی ملینٹنٹوں کو ڈھونڈنے کیلئے آپریشن جاری رہا

وسیع جنگلاتی علاقہ محاصرے میں دوسرے رروز بھی شدت پسندفوج کے ہاتھ نہیں لگے

سرینگر///شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے رینجی جنگلاتی علاقے میں جمعرات کو دوسرے دن بھی پولیس اور سیکورٹی فورسز نے تلاشی مہم جاری رکھی۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے آرہ گام جنگلاتی علاقے میں بدھ کی صبح تلاشی کارروائی کے دوران علاقے میں چھپے شدت پسندوں اور فوج کے مابین جھڑپ شروع ہوئی جس میں ابتدائی طور پر دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے تھے ۔وائس آف انڈیا کے مطابق بانڈی پورہ میں جنگلاتی علاقے میں جمعرا ت کو دوسرے روز بھی شرپسندوں کی تلاش جاری رہی ۔ اس ضمن میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ بدھ کے روز پولیس، فوج کی 13RR اور CRPF کی ایک مشترکہ ٹیم نے کم از کم دو اور تین ملیٹنٹوںکی موجودگی کی مخصوص اطلاع کے درمیان بانڈی پورہ کے رینجی جنگلاتی علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔جیسے ہی فورسز کی مشترکہ ٹیم مشتبہ مقام کے قریب پہنچی تو چھپے ہوئے ملیٹنٹوںنے ان پر فائرنگ کردی، جس سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ تمام خارجی راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے اورمصلح افراد کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے لائٹس لگائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رات بھر سرچ آپریشن جاری رہا اور جمعرات کو بھی جاری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے کے لیے ہیلی کاپٹر اور دیگر سروسز کو استعمال میں لایا گیا ہے جب کہ ان کے فرار ہونے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ بدھ کو جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں بدھ کو سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم شروع ہونے کے بعد چھپے ہوئے شدت پسندوںکی فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا گیا۔کشمیر زون پولیس نے ایکس پر بتایا کہ “آرہگام کے جنگلاتی علاقے میں صبح سویرے شدت پسندوںاور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم آرائی ہوئی جس دوران ابتدائی طور پر دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ ابھی تک دونوں طرف سے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔حکام نے بتایا کہ فوج نے ملیٹنٹوںکو بھاگنے سے روکنے کے لیے فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ جمعرات کو سیرچ آپریشن جاری رہا اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن وسیع کردیا گیا ہے ۔