وزیر اعظم کے ٹویٹ نے جموں وکشمیر سیاحت کو فروغ دیا

باغ گل لالہ کادروازہ آج سے ہوگا سال بھرکیلئے بند

سری نگر //زبرون پہاڑ کے دامن میں اورمشہور زمانہ جھیل ڈل کے بالکل قریب میں واقع 68درآمدی رنگ بہ رنگے پھولوں کے مسکن ’باغ گل لالہ ‘ٹولیپ گارڈن سری نگر کو18اپریل بروزسوموار کی شام بندکیاجائیگا،اورپھر پورے ایک سال سیاحوں اورسیلانیوںکو یہاں کے مسحور کرنے والے مناظر کانظارہ کرنے کاانتظار کرناپڑے گا۔آج یعنی اتوار کوسیاح اورسیلانی ٹولیپ گارڈن کے دلکش نظاروں سے محظوظاورمسحور ہوسکتے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے ہفتہ کو بتایاکہ سری نگر میں واقع ایشیا کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن18 اپریل کو سیاحوں کیلئے بند رہے گا کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر پھول مرجھانے لگے ہیں۔ ڈائریکٹرمحکمہ پھولبانی فاروق احمد راتھر نے سنیچر بتایا کہ متعلقہ محکمہ نے18 اپریل کو باغ گل لالہ کو سیاحوں وسیلانیوں کے لئے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ امسال درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر ٹیولپ کیپھول سکڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ ڈائریکٹرمحکمہ پھولبانی نے بتایاکہ اس سال پچھلے سال کے مقابلے میںباغ گل لالہ کو پہلے کھول دیا گیاتھا،تاہم اب جبکہ گرمی کی شدت بڑھنے سے یہاں کھلے پھول سکڑناشروع ہوگئے ہیں توہم نے اس دلکش باغ کولوگوں کیلئے بندکرنے کافیصلہ لیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ23مارچ سے16 اپریل تک سیاحوں اور مقامی سیلانیوں سمیت ساڑھے3لاکھ سے زیادہ لوگوں نے باغ گل لالہ کا دورہ کیا جو پچھلے سال یہاں آنے والے سیاحوں اورسیلانیوںکی کل تعداد2.26 لاکھ کے مقابلے میں ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ ڈائریکٹرمحکمہ پھولبانی فاروق احمد راتھر نے باغ گل لالہ کادورہ کرنے والے سبھی لوگوں بشمول مقامی سیلانیوں اور سیاحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملکی وغیرملکی سیاحوں پر زور دیا کہ وہ سری نگر کے دیگر باغات اور کشمیر کے دیگر حصوں کی خوبصورتی کو دیکھیں۔اُدھر حکام نے بتایاکہ اس سال باغ گل لالہ میں تقریباًڈیڑھ لاکھ رنگ بہ رنگے اوردلفریب پھولوں نے یہاں آنے والے سبھی لوگوں کو مسحور کر دیا۔