بارہمولہ،سوپور کے میدانی علاقوں میں موسم کی پہلی برفباری

سرینگر سمیت دیگرکئی اضلاع میں سخت سردی کی لہر ، اگلے 24گھنٹوں کے دوران برفباری اور بارش کاا مکان

سرینگر//جموں و کشمیر میں شدید سردی اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران ضلع بارہمولہ کے سوپور اور اس کے علاقے کے قریب و جوار میں تازہ برفباری دیکھنے کو مل ہے۔ وہیں سوپور کے میدانی علاقوں میں رواں موسم سرما کی پہلی برف باری ہوئی۔جبکہ سرینگر ، گاندربل اور بڈگام سمیت دیگر اضلاع میں خشک سردی کا زور پکڑ رہا ہے اور جمعرات کو سخت سردی محسوس کی گئی ۔ ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والے سونہ مرگ – کرگل روڈ پر تازہ برف باری کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل بند ہے۔تاہم وادی کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی دو طرفہ نقل و حمل حسب معمول جاری ہے۔ٹریفک حکام نے بتایا کہ برف جمع ہونے کی وجہ سے مغل روڈ، سونہ مرگ – کرگل روڈ اور سنتھن روڈ پر ٹریفک کی نقل و حمل بند ہے۔انہوں نے کہا کہ روڈ ٹھیک کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ان پر ٹریفک کی نقل و حمل بحال کی جائے گی۔وادی کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی دو طرفہ آمد و رفت حسب معمول جاری ہے۔حکام نے مسافرں سے قومی شاہراہ پر لین ڈسپلن پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔انہوں نے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ قومی شاہراہ پر دن کے دوران ہی سفر کریں اور چٹانیں کھسکنے یا مٹی کے تودے گر آنے کے خدشات کے پیش نظر رام بن اور بانہال کے درمیان غیر ضروری طور رکنے سے اجتناب کریں۔ادھروادی میں گذشتہ چند مہینوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ سوپور قصبہ کی بات کرے تو یہاں کی آبادی میوہ صنعت پر منحصر ہے اور ایسے میں سوپور، رفیع آباد اور زنگیر میں وقت پر برفباری ہونا مقامی آبادی کے لئے کافی خوشی حالی کی بات ہے اور سیب کے درختوں پر برف کا ہونا ایک دلفریب نظارہ ہوتا ہے۔اس دوران وادی کشمیر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ گاندربل کے میدانی علاقوں میں کچھ مقامات پر بارشیں بھی ہوئیں۔ اس کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ روڈ سے برف ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مشہور و معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی برفباری دیکھنے کو ملی اور اس سے سیاحوں کے چہرے کافی خوشی سے جوم اوٹھے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر شدید سردی کی زد میں ہے۔ کئی مقامات پر درجہ حرارت صفر سے نیچے ہے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔