بولی دہندگان کے ساتھ تحصیلدار وقف بورڑ کا ناروا سلوک ،متاثرین کی طرف سے قانونی نوٹس ارسال
سرینگر// آستان شریف باباریشی ٹنگمرگ کے احاطے میں کار پارکنگ الاٹمنٹ کیلئے منعقدہ بولی کو پر اسرار اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر منسوخ کرنے پر بولی دہندگان کی جانب سے اٹھائے گئے اشکالات پر سیخ پا تحصیلدار وقف بورڑ نے ان کے ساتھ گالم گلوچ اور طوفان بدتمیزی سے انتہائی ہتک آمیز سلوک روا رکھا جس کے خلاف متاثرہ بولی دہندگان نے مذکورہ تحصیلدار کیخلاف عدالتی نوٹس جاری کی ہے اور ان سے فی الفور معافی طلب کی ہے ۔اس سلسلے میں معروف وکیل ایڈوکیٹ فردوس احمد بٹ نے تحصیلدار جموں وکشمیر وقف بورڑ زیرو برج سرینگر اشتیاق احمد کے نام قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ وقف بورڑ نے میڈیا کے ذریعے آٓستان عالیہ باباریشی ٹنگمرگ کیلئے کار پارکنگ ٹینڈر جاری کئے تھے اور خواہمشند بولی دہندگان سے 7دسمبر 2023کو بولی دینے کیلئے کہا گیا ۔اس سلسلے میں ان کے مئوکل طارق اقبال ولد مرحوم ولی محمد ساکن اپر صورہ سرینگر نے بھی تمام لوازمات بشمول 50000روپے نقد بطور سی ڈی آر جمع کئے اور حسب شیڈول 7دسمبر کو مقررہ جگہ پر بولی دینے کیلئے حاضر ہوئے تاہم اس دوران تحصیلدار مذکورہ بنا کچھ کہے بولی دہندگی کے مقام سے چلے گئے اور سبھی بولی دہندگان کو حیران و پریشان حالت میں چھوڑ دیا ۔قانونی نوٹس میں کہا گیا کہ اس بارے میں بولی دہندگان بشمول طارق اقبال نے متعلقہ افسران و عملے سے بولی روکنے کی وجوہات جاننی چاہی لیکن کسی جانب کوئی بھی بات نہیں کی گئی اور اس معاملے میں ایک پر اسرار خاموشی اختیار کی گئی ۔قانونی نوٹس کے مطابق جب بولی دہندگان بشمول ان کے مئوکل طارق اقبال نے تحصیلدار مذکورہ سے وجوہات دریافت کرنی چاہی تو وہ ایک دم آپے سے باہر ہوگئے اور گالم گلوچ پر اتر آئے اور سبھی کو سخت کارروائی کا سانا کرنے کی دھمکی دینے لگے ۔تحصیلدار مذکورہ کے اس رویے سے ششدر بولی دہندگان نے ان سے بولی روکنے کی وجوہات جاننے پر اصرار کیا لیکن تحصیلدار نے کوئی بھی بات نہیں مانی اور سخت برا بھلا کہنا جاری رکھا ۔اس طرزعمل سے موکل طارق اقبال کی عزت نفس کو سخت ٹھیس پہنچی او ر انہیں سخت صدمہ پہنچا ہے ۔قانونی نوٹس میں تحصیلدار وقف بورڑ اشتیاق احمد سے کہاگیا ہے کہ بحیثیت ایک سرکاری آفیسر آپ کا رویہ اور طرز عمل غیر اخلاقی تھا جس سے ہمارے موکل کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچی ہے ۔اس لئے یہ قانونی نوٹس جاری کی جاتی ہے کہ آپ ان کی عزت نفس کی بحالی کیلئے ان سے فوری طور معافی مانگیں اور اپنے روہہے پر مصر رہن ے کی صورت میں باضابطہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں ۔










