اخلاقی و معیاری تعلیم اور اِختراعی آلات کو اَپنانے پر زور
سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعلیم شانت منون سول سیکرٹریٹ میں صوبہ کشمیر کے تعلیمی منظرنامے کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اُٹھائے گئے اَقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام سی اِی اوز اور زیڈ اِی اوز کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والے سیشن میں وادی کے تمام سکولوں میں متعلقہ سربراہان بچوں کو اَخلاقی تعلیم دینے کے لئے اضافی اقدامات کریں۔اُنہوں نے کہا کہ جب ہم معیاری تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بچوں کو اَخلاقی تعلیم دینے اور مادری زبان پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔شانت منو نے کہاکہ موجودہ وقت آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کا دور ہے لہٰذا ہم اُس وقت تک معیاری تعلیم کا تصور نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم جدید طریقوں اور جدید آلات کو اَپنا کر بچوں کو تعلیم فراہم نہ کریں۔اُنہوںنے اِس بات پر بھی زور دیا کہ ہم بچوں کی ذاتی نشوونما میں اُس وقت تک اضافہ نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم سکولوں میں دوستانہ ماحول کے ذریعے سیکھنے کے خلا کو دور نہیں کرتے، بچوں کی مواصلاتی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کرتے اور ان کے اعتماد کو مضبوط نہیں کرتے۔شانت منو نے تمام اَفسران اور سکول کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ اِن تجاویز کو زمینی سطح پر اَپنائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جب اِن تجاویز کو اَپنایا جائے گا تو ہم منظر نامے میں ایک نئی تبدیلی دیکھیں گے۔اِس سے قبل ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر ڈاکٹر جی این اِیتو نے وادی میں موجودہ تعلیمی منظر نامے کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ نے آنے والے سیشن کے لئے بچوں کو مؤثر تعلیم فراہم کرنے کے لئے روڈ میپ تیار کیا ہے۔میٹنگ میں ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر، صوبہ کشمیر کے چیف ایجوکیشنل اَفسران اور دیگر متعلقہ اَفراد نے شرکت کی۔










