ایڈوکیٹ جنرل کا سٹیٹ ٹیکسزمحکمہ کے سری نگر دفتر میں اِستفساری سیشن منعقد

سری نگر//ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینہ کی قیادت میں آج سٹیٹ ٹیکسز محکمہ سری نگر میں کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ڈاکٹر رشمی سنگھ ، ایڈیشنل کمشنر ٹیکسز پلاننگ اَنکیتا کار ، ایڈیشنل کمشنر ( ایڈمنسٹریشن ایںڈ انفورسمنٹ )کشمیر شکیل مقبول اور ایڈیشنل کمشنر ( ایڈمنسٹریشن اینڈ اَنفورسمنٹ ) جموں نمرتا ڈوگرہ کے ساتھ جموں اور کشمیر دونوں صوبوں کے ضلع ترقیاتی کمشنروں ، اسسٹنٹ کمشنروں اور سٹیٹ ٹیکسز اَفسران کی موجودگی میں ایک اِستفساری سیشن کا اِنعقاد کیا ۔ڈی سی رینہ جموںوکشمیر کے نئے بنائے گئے یونین ٹیریٹری کے پہلے ایڈ وکیٹ جنرل ہیں۔ وہ 1980 ء کی دہائی میں ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف اِنڈیا میں سیلز ٹیکسز ڈیپارٹمنٹ کے وکیل رہے ۔ وہ نہ صرف آئینہ قوانین میں گہرائی سے قانونی ذہانت رکھتے ہیں بلکہ پورے ملک میں اَپنی ٹیکسزیشن قانونی ذہانت کے لئے مشہور ہیں۔اِستفساری سیشن کا مقصد ایس ٹی اوز کو ٹیکسوں سے متعلق مختلف قانونی پہلوئوں پر مشورے کے لئے ایک سہولیت کار اور انٹرایکٹیو فورم فراہم کرنا تھا۔دورانِ سیشن ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ چوں کہ جی ایس ٹی کافی حد تک نیا قانون ہے ۔ اِس لئے اَفسران کے لئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ جو احکامات جاری کرتے ہیں وہ نہ صرف فطری اِنصاف کے اَصول کے مطابق ہوں بلکہ ان کے استدلال اور اس کی پابندی میں بھی واضح طور پر عیان ہوں ۔اُنہوں نے اَفسران پرمزید زور دیا کہ جب بھی اسسمنٹ ، کینسلیشن ، ریفنڈ وغیرہ کے ایسے آرڈر ز پاس کرنے کی ضرورت ہو توسپیکنگ آرڈر ز اَپ لوڈ کریں۔ایک استفساری سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہواجس میںایس ٹی اوز اور دیگر اَفسران کے متعدد سوالات پر ایڈوکیٹ جنرل نے خطاب کیا جن کے ساتھ گورنمنٹ ایڈوکیٹ سجاد اشرف بھی تھے۔ایڈیشنل کمشنر ( ایڈمنسٹریشن اینڈ اَنفورسمنٹ ) جموں نے کچھ اہم نکات پیش کئے جبکہ ایڈیشنل کمشنر ( ایڈمنسٹرین اینڈ اَنفورسمنٹ ) کشمیر نے اِظہار تشکر کیا۔