نائب وزیر اعلیٰ نے وزیر اعلیٰ کے وژن نقطہ نظر کی تعریف کی
جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے محکمہ کان کنی کیلئے 7050.86 لاکھ روپے ، انڈسٹریز اینڈ کامرس محکمہ کیلئے 108603.20 لاکھ روپے ، محکمہ پبلک ورکس کیلئے 528374.63 لاکھ روپے ، محکمہ لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ کیلئے 35344.46 لاکھ روپے اور محکمہ سکل ڈیولپمنٹ کیلئے 22561.03 لاکھ روپے کی گرانٹس منظور کیں ۔ ایوان میں ایک دن کی تفصیلی بحث کے بعد گرانٹ منظور کی گئیں ۔ گرانٹ کے تقاضوں پر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا کہ فی الحال محکمہ پبلک ورکس 40000 کلو میٹر کا ایک وسیع روڈ نیٹ ورک برقرار رکھتا ہے اور ہماری ترجیح آخری غیر منسلک گاؤں کو اعلیٰ معیار کی سڑکیں اور رابطے فراہم کرنے کیلئے باقی ہے ۔ تا ہم اس طرح کے وسیع انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے کیلئے مستقل سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ محکمہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ عوامی فنڈز کے ساتھ بنی سڑکیں وقت کی آزمائش پر کھڑی ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2025-26 میں ہم مختلف اسکیموں جیسے پی ایم جی ایس وائی ، شہروں اور قصبے ، سی آر آئی ایف اور نابارڈ کے تحت 4000 کلو میٹر روڈ بلیک ٹاپنگ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس سے جموں اینڈ کشمیر کے لوگوں کیلئے سفری حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ کو تین اہم ذرایع جیسے مرکزی طور پر اسپانسر شدہ اسکیمیں پی ایم جی ایس وائی اور سی آر آئی ایف ، نابارڈ امداد اور سڑکوں اور پلوں کیلئے یو ٹی سیکٹر فنڈنگ سے مالی اعانت ملتی ہے ۔جموںوکشمیر میں انڈسٹریز کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خطے میں سب سے زیادہ روزگار کی انڈسٹریز فراہم کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں 7.10لاکھ ایم ایس ایم ایز موجو دہیں جن میں 4.47 ایم ایس ایم ایز اودھیم پوٹل پر رجسٹرڈ ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ انڈسٹریز جموںوکشمیر کی 8فیصد اقتصادی تعاون پیش کرتی ہے جبکہ 90 فیصد لو گ ایم ایس ایم ایزمیں کام کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ انڈسٹریز مزید فوقیت دینے کے لئے 46 انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کئے جائیں گے جبکہ اس وقت 64 انڈسٹریل اسٹیٹس کام کر رہی ہیں۔نائب وزیرا علیٰ نے مائننگ محکمہ کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کان کنی کو روکنے کے لئے محکمہ جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرون مانیٹرنگ ، جی پی ایس ٹریکنگ اور رئیل ٹائم اور ڈیجیٹل نگرانی کر رہی ہے جسے اس غیر قانونی کام کو روکا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ 2024ء میں محکمہ نے 440 گاڑیوں کو غیرقانونی کان کنی کی پاداش میں ضبط کیا اور اُن کے خلاف 145 ایف آئی آر درج کئے گئے جس کی بدولت محکمہ نے 10.12 کروڑ جرمانہ عائد کیا ۔سکل ڈیولپمنٹ محکمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ کہا کہ آئی ٹی آئیز میں مزید نئے کورسز متعارف کئے جائیں گے ۔نائب وزیر اعلیٰ نے ایوان کو اپنے ماتحت محکموں کے لئے پاس کی گئی گرانٹس کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ گرانٹ کے مطالبات پر کٹ موشن کو بعد میں قانون سازوں نے واپس لے لیا ۔ قانون ساز نذیر احمد گریزی ، میاں مہر علی ، سرجیت سنگھ سلاتھیہ ، جی اے میر ، علی محمد ڈار ، غلام محی الدین میر ، درشن کمار ، محمد یوسف تاریگامی ، نظام الدین بٹ ، میر محمد فیاض ، شوکت احمد غنی ، مظفر اقبال خان ، چندر پرکاش گنگا ، سیف الدین بٹ ، ریاض احمد خان ، محراج ملک ، چودھری محمد اکرم ، پیارے لال شرما ، شکتی راج پریہار ، وحید الرحمان پرے ، انجینئر خورشید احمد ، جاوید احمد مرھژل ، شبیر احمد قلی ، وکرم رندھاوا سنگھ ، ڈاکٹر رامیشور سنگھ ، ارشاد رسول کار ، پون گپتا ، عرفان حفیظ لون ، شیخ خورشید ، ارجن سنگھ راجو ، جاوید احمد چودھری اور بلدیو راج شرما نے گرانٹ کی طلب کے دوران فتگو کے دوران بات کی اور ان کی متعلقہ اجزاء کے معاملات اٹھائے ۔ بعد میں ایوان نے صوتی ووٹ کے ذریعے نائب وزیر اعلیٰ کی طرف سے پیش کی گئی مطالبات زرگرانٹس منظور کی۔










