مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر میں 22,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے ہائی وے ڈیولپمنٹ پروجیکٹ شروع کئے ہیں
سری نگر//وزارت روڈ ،ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز( ایم او آر ٹی ایچ )اور نیشنل ہائی ویز اَتھارٹی آف اِنڈیا ( این ایچ اے آئی )نے جموں وکشمیر پبلک ورکس ( آر اینڈ بی ) ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر آج یہاں ایس کے آئی سی سی میں زمین کے حصول اور ’بھومی راشی پورٹل ‘سے معلومات پر ایک ورکشاپ کا اِنعقاد کیا۔ورکشاپ کا مقصد ہائی وے ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کے لئے زمین کے حصول کے عمل کو تیز کرنا تھا ۔ یہ پہل زمین کے تیزی سے حصول کی راہ ہموار کرے گا جس سے جموںوکشمیر یوٹی میں ہائی وے ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کی بروقت تکمیل میں سہولیت ہوگی۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ مرکزی حکومت جموںوکشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے پُر عزم ہے اور مختلف پروجیکٹوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لئے انتھک محنت کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر میں 22,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ہائی وے ڈیولپمنٹ پروجیکٹس شروع کئے ہیں۔ورکشاپ میں مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری ( ایل اے اینڈ ایچ) ایم او آر ٹی ایچ امیت کمار گھوش ، پرنسپل سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی ( آر اینڈ بی ) شیلندر کمار ، صوبائی کمشنر کشمیر وِجے کمار بِدھوری ، صوبہ کشمیر کے ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ اے ڈی سی اور اے سی آر ز نے ذاتی طور پر جبکہ صوبائی کمشنر جموں اور صوبہ جموں کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے بذریعہ آن لائن موڈ ورکشاپ میں حصہ لیا۔اِس کے علاوہ چیف اِنجینئر آر اینڈ بی کشمیر نے سپر اِنٹنڈنٹ اِنجینئروں اور ایگزیکٹیو اِنجینئروں کی اَپنی ٹیم کے ساتھ دیگر اَفسران نے ورکشاپ میںشرکت کی۔مرکزی ڈپٹی سیکرٹری ابھے جین کی قیادت میں ایم او آر ٹی ایچ اَفسران کی ایک ٹیم نے زمین کے حصول کے عمل اور زمین راشی پورٹل کے کام کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ نئے سرے سے بنایا گیا بھومی راشی پورٹل نہ صرف ایکوائر کی گئی زمین کے معاوضے کی براہِ راست ادائیگی کو تیز کرنے کی اِجازت دے گا بلکہ زمین کے مالکان کو ان کی ادائیگی کی حیثیت جاننے / ٹریک کرنے اور شکایت درج کرنے کی بھی اِجازت دے گا، اگر کوئی ہے۔ورکشاپ کے دوران حصول اَراضی کو متاثر کرنے والے تمام مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا اور متعلقہ اَفراد کی طرف سے مناسب رہنمائی کی گئی۔










