بارشوں کی کمی کی وجہ سے پانی کی کمی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ٹھوس کوششیں کی گئی ہیں۔ جاوید احمد رانا
جموں//وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے آج کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی (ایس ایم وِی ڈِی) حلقہ کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو پانی کی سہولیت فراہم کرنے کے لئے 35 واٹر سپلائی سکیمیں یا تو مکمل ہو چکے ہیں یااُن پر کام جاری ہے۔ وزیرموصوف قانون ساز اسمبلی میں بلدیو راج شرما کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم وِی ڈِی حلقے میں جل جیون مشن کے تحت 91 پانی سمیتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں پنچایت راج اِداروں کے منتخب ارکان، کمیونٹی لیڈران، سکول کے اساتذہ، آنگن واڑی ورکروں، اے ایس ایچ اے ورکروں وغیرہ شامل ہیں اور ان میں خواتین کی نمائندگی کم از کم 50 فیصد ہونی چاہیے۔وزیر نے کہا کہ پانی سمیتوں کی جانب سے نگرانی میں کوئی سست روی نہیں ہے اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کی سربراہی میںڈِسٹرکٹ جل جیون مشن (ڈِی جے جے ایم) کے ذریعے باقاعدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اس برس فروری کے اختتام تک جمع کردہ ڈیٹا کے مطابق بارش میں تقریباً 79 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ تر چشمے خشک ہو گئے ہیں۔وزیر موصو ف نے بتایا کہ شری ماتا ویشنو دیوی کے حلقے میں پانی کی کمی سے نمٹنے کے لئے کچھ اہم اَقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں عام لوگوں میں پانی کے درست اِستعمال اور ضیاع سے بچنے کے لئے بیداری شامل ہے۔ کچھ ذرائع پر چشموں کو رِی چارج کرنے کے لئے بہائو کا رُخ موڑ کر مقامی نالوں کو چینلائز کرنے کی بھی تجویز ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ذرائع کی حفاظت،ذرائع کی ترقی، اضافی پانی کی تعیناتی، پانی کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرنا ، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا، زمینی پانی کو رِی چارج کرنا،روایتی اِداروں کی بحالی، جنگلات کی کاشت وغیرہ کے اقدامات بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی بتایاکہ شری ماتا ویشنو دیوی حلقے (دیہی علاقوں) میں پینے کے پانی کی طلب اور رسد موجودہ صورتحال 11.85 لاکھ گیلن یومیہ ہے جبکہ پانی کی دستیابی 10.49 لاکھ گیلن یومیہ ہے۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ تمام پائپ جیسے جی آئی، ڈی آئی اور ایچ ڈی پی ای، مقام کی ضروریات اور ان کی مناسبت کے مطابق اِستعمال کیا جارہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایچ ڈی پی ای پائپ سی پی ایچ اِی او مینول کے ذریعے تجویز کردہ اور این جے جے ایم کی طرف سے تجویز کردہ غیر دھاتی پائپوں میں سے ایک ہیںجو مختلف ڈبلیو ایس ایس کے تحت پانی کی ترسیل میں استعمال کے لئے تجویز کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ متعلقہ تکنیکی فیلڈعملہ سائٹ پرمستقل بنیادوں پر کام کی نگرانی کرتا ہے ۔اِس کے علاوہ ڈِسٹرکٹ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹس (ڈی پی ایم یوز) کام کی معیار کی نگرانی کے لئے تھرڈ پارٹی انسپکشن ایجنسی ہے۔وزیر نے ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ،’’ پانی سمیتوں کی ناکامی کے معاملے میں انکوائری کی جائے گی اور ذمہ داریاں طے کی جائیں گی۔اِس کے علاوہ جل جیون مشن کے کاموں کو اَنجا م دینے میں کسی بھی خامی کو درست کرنے پر توجہ دی جائے گی۔‘‘










