The Centre must fulfill the promise made to the people of Jammu and Kashmir.

ایران پر اسرائیلی حملے بلاجواز، عالمی برادری خاموش

جموں کشمیر کے شہریوں اور طلبہ کی حفاظت کیلئے فکر مندی ظاہر کی

سرینگر///جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “مکمل طور پر بلاجواز” قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ جتنا مجھے علم ہے، ایران نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جسے اسرائیل کے اس حملے کا جواز بنایا جا سکے۔ یہ اسرائیل کا یک طرفہ اقدام ہے، جسے ’پیشگی دفاع‘ کہا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بلااشتعال جارحیت ہے۔یہ بیان جمعہ کی صبح اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے تہران پر کیے گئے حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جن کا ہدف مبینہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات تھیں۔ اس اقدام نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایران پر 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے بعد سب سے سنگین حملہ ہے۔عمر عبداللہ نے عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار پر سوال اٹھایا اور اسرائیلی کارروائی کا موازنہ روس کے یوکرین پر حملے سے کیا۔جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو عالمی سطح پر زبردست ردعمل دیکھنے کو ملا—تحریکیں چلیں، پابندیاں لگیں۔ لیکن جب اسرائیل ایران کو نشانہ بناتا ہے تو وہی طاقتیں — امریکہ ہو یا یورپ — خاموشی اختیار کرتی ہیں۔ یہ دہرا معیار انتہائی تشویش ناک ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بحران صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔یہ کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کرے گی—تیل کی قیمتیں، ہوائی سفر، اسٹاک مارکیٹ، سب کچھ متاثر ہوگا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر، یہ مسئلہ عوامی جذبات کو جھنجھوڑتا ہے، خاص طور پر کشمیر جیسے خطوں میں، جہاں لوگ ان واقعات کو بہت قریب سے محسوس کرتے ہیں۔عمر عبداللہ نے وزارت خارجہ سے فوری اپیل کی کہ وہ ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنائے۔سماجی رابطہ سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر انہوں نے لکھا:وزارت خارجہ سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کی سلامتی اور بہبود کو یقینی بنائے۔ ان کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں، اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ طلبہ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔