سرینگر / /آبی ذخائر کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے محکمہ اری گیشن اور فلڈ کنٹرول کوئی توجہ نہیں دے رہاہے اور متعلقہ محکمہ کی عدم توجہی کے کے نتیجے میں لوگ پانی کی نعمت سے محروم ہوجاتے ہیں اور آجکل فصلیں عروج پر ہیں ان کو پکے کیلئے سینچائی کی اشد ضرورت ہے لیکن پانی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں فصلیں تباہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے ۔حالانکہ یہ بات طے ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے محکمہ ہذا نے ارگیشن پلانٹ یا پمپ اسٹیشن تعمیر کئے ہیںلیکن اکثر جگہوں پر ناقص میٹرئیل استعمال کرنے یا ان کی مرمت نہ کرنے کی وجہ سے وہ بے کار پڑے ہوئے ہیں۔زیادہ ترفصلوں بالخصوص دھان کی فصل کیلئے آبپاشی لازمی ہے لیکن پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں زمیندارپریشان حال ہوچکے ہیں ۔ اس سلسلے میں آئے روزمختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے زمینداروں کی شکایت رہتی ہے کہ ان کی فصلیں پانی نہ ملنے کی وجہ سے تباہ ہورہی ہے ۔کئی علاقوں کے زمینداروں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ بیشتر علاقوں میں کوہلوں سے پانی حاصل کرکے پینے اور سینچائی کیلئے استعمال کیا جارہا تھا لیکن اب ان علاقوںکی کوہلوں میں مقامی لوگ کوڑا کرکٹ پھینکتے رہتے ہیں جبکہ ان علاقوں کے ڈرینج کا سار اگندہ پانی ان میں ہی بہہ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ کوہلوں میں گندگی کے ڈھیر جمع ہوئے ہیں اور ان کا پانی آلودہ ہوا ہے جس سے ایسی بدبو پھیلی ہوئی ہے کہ ان علاقوں میں بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق رہتاہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کوہل اب خشک پڑی ہوئی ہیں ۔اس پیداشدہ صورتحال کے بعدسرکار نے پمپ شیڈ بنانے اور اری گیشن پلانٹ تعمیر کرنے کے بڑے بڑے پروجیکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے لیکن اکثر جگہوں کے یہ پروجیکٹ بے کار پڑے ہوئے ہیں جس سے پانی کی سپلائی مسدود ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کھڑی فصلوں کو بچانے کیلئے سینچائی کی ضرورت ہوتی ہے پانی نہ ملے تو فصلیں سوکھ جاتی ہیں ۔اس سلسلے میں زمینداروں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوہلوں کی صفائی وستھرائی اور پمپ اسٹیشنوں کی مرمت کیلئے فوری طور اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ فصلیں تباہ ہونے سے بچ جائیں گی










