لداخ میں غذائی اشیاء کے معیار کی خلاف ورزیاں

سخت کارروائی کا حکم، 8800 کاروباری اداروں کو انتباہ

سرینگر/یواین ایس / لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غذائی اشیاء کے معیار اور حفاظت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ نے تقریباً 8800 غذائی کاروبار سے وابستہ اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور بعض معاملات میں قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔حکام کے مطابق لداخ میں اس وقت 428 کاروباری اداروں کے پاس فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا، یعنی ایف ایس ایس اے آئی، کا لائسنس موجود ہے، جبکہ 8,355 ادارے ایف ایس ایس اے آئی کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔انتظامیہ نے تمام غذائی کاروبار چلانے والوں کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی مکمل پابندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کہا گیا ہے کہ لداخ میں تیار، پراسیس، ذخیرہ، منتقل، تقسیم یا فروخت کی جانے والی تمام غذائی اشیاء￿ محفوظ، صحت بخش اور مقررہ معیار کے مطابق ہونی چاہئیں۔لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے کہا کہ غذائی تحفظ محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ہر شہری کی صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو فراہم کیا جانے والا کھانا محفوظ، صاف ستھرا اور مقررہ معیار کے مطابق ہونا چاہیے اور صحت عامہ کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے تاہم کہا کہ قوانین پر عمل درآمد منصفانہ، شفاف اور قانونی دائرے کے اندر کیا جائے گا۔انتظامیہ نے تمام ریستورانوں، ہوٹلوں، ڈھابوں، کھانے پینے کی دکانوں اور دیگر غذائی کاروباروں کو غیر محفوظ، غیر معیاری، ملاوٹ شدہ، آلودہ، غلط لیبل والی یا زائد المیعاد غذائی اشیاء￿ تیار کرنے، ذخیرہ کرنے یا فروخت کرنے سے روک دیا ہے۔غذائی کاروبار چلانے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایف ایس ایس اے آئی کا درست لائسنس یا رجسٹریشن حاصل کریں اور اسے نمایاں مقام پر آویزاں رکھیں۔ اس کے علاوہ صفائی ستھرائی کے اصولوں پر عمل، خوراک اور خام مال کا محفوظ ذخیرہ، مناسب درجہ حرارت اور کولڈ چین کو برقرار رکھنا، صاف پانی کا استعمال، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا اور کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ کے انتظامات بھی ضروری قرار دیے گئے ہیں۔انتظامیہ نے کاروباری اداروں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ معیاری آلات، برتن اور پیکنگ مواد استعمال کریں، ضروری ریکارڈ اور دستاویزات برقرار رکھیں، خام مال صرف قابل اعتماد اور قانونی ذرائع سے حاصل کریں اور لیبلنگ سے متعلق تمام قوانین کی پابندی کریں۔لائسنس یافتہ غذائی کاروباری اداروں کے لیے مناسب فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنا ضروری ہوگا، جبکہ کھانا تیار کرنے اور اس سے وابستہ عملے کو ذاتی صفائی کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے اور غذائی تحفظ و صفائی سے متعلق تربیت حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔فوڈ سیفٹی محکمہ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معائنوں، غذائی نمونوں کی جانچ اور تجزیے میں تیزی لائے۔ ضرورت پڑنے پر غیر محفوظ غذائی اشیاء کو ضبط یا روکنے، ان کی فروخت یا تقسیم پر پابندی عائد کرنے اور قانون کے مطابق لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کی کارروائی کی جا سکے گی۔قوانین کے تحت مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہونے والی غذا فروخت کرنے پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ غیر معیاری غذا پر بھی 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی گنجائش ہے۔غلط یا گمراہ کن لیبل والی غذائی اشیاء پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے، جبکہ گمراہ کن اشتہارات یا غلط معلومات فراہم کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ملاوٹ کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء رکھنے پر، اگر وہ صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہوں، 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ صحت کے لیے نقصان دہ ملاوٹ کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔غیر صحت بخش یا غیر صفائی والے ماحول میں خوراک تیار کرنے یا بنانے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ فوڈ سیفٹی افسر کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 2 لاکھ روپے تک جرمانے کی گنجائش ہے۔غیر محفوظ غذا تیار کرنے، ذخیرہ کرنے، فروخت کرنے یا تقسیم کرنے کی صورت میں جرم کی نوعیت اور اس کے نتیجے میں کسی شخص کو پہنچنے والے نقصان کے مطابق جرمانے کے علاوہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ضبط کی گئی غذائی اشیاء￿ میں مداخلت کرنے پر چھ ماہ تک قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ فوڈ سیفٹی افسر کو کام سے روکنے، دھمکانے یا اس پر حملہ کرنے کی صورت میں تین ماہ تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ضروری لائسنس کے بغیر غذائی کاروبار چلانے کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔