سری نگر//ضلع سانبہ کے رام گڈھ بلاک کے ترندی گاؤں کے مویشی پالنے والے ایک ترقی پسند کسان منجیت کمار نے جموں و کشمیر میں انٹی گریٹیڈ شیپ ڈیولپمنٹ سکیم ( آئی ایس ڈی ایس ) کی عمل آوری سے ایک کامیاب کاروباری شخص کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا ۔ اسے بہت کم معلوم تھا کہ بھیڑ پالن محکمہ میں اس کا دورہ اس کی قسمت ہمیشہ کیلئے بدل دے گا ۔ منجیت کمار نے کہا ہے کہ وہاں اَفسروں سے اسے جو تعاون اورسپورٹ حاصل ہوا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔اُنہوں نے مجھے کامیاب کاروباری بننے کے لئے بھرپور رہنمائی اور رہبری کی۔ اسے آئی ایس ڈی ایس کے تحت 25 دنبیاں اور 2 مینڈھے فراہم کئے گئے جس سے اس نے ایک عام کاروباری کے طور پر اپنا پیشہ شروع کیا ۔ منجیت کمار نے کہا ’’ میں نے اپنے کاروبار کے پہلے برس میں دس نر بھیڑیں ( رام ) بیچ کر ایک لاکھ روپے کمائے اور اس کے بعد مجھے ہر برس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ اُنہوں نے جموں وکشمیر بالخصوص ضلع سانبہ کے تمام بے روزگار نوجوانوں سے پُر زور اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری سکیموں کا فائدہ اُٹھائیں اور اَپنے کاروبار کو قائم کریں۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ حکومت جموں وکشمیر نے 2020ء میں 10کروڑ روپے کے منظور شدہ بجٹ کے انٹی گریٹیڈ شیپ ڈیولپمنٹ سکیم کا آغاز کیا جس کا مقصد جموںوکشمیر یوٹی میں بھیڑ و پشو پالن یونٹوں کے قیام کو فروغ دینا ہے۔منجیت کمار نے مزید کہا کہ ان کے گائوں کے بہت سے لوگ اِس اہم سکیم سے بہت زیادہ منافع کمار ہے ہیں جس نے بالآخر ان کے معیار ِ زندگی کو تبدیل کیا ہے۔رورل انٹی گریٹیڈ شیپ ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت بھیڑ بکریوں کی خریداری کے لئے بڑے جذبے کے ساتھ آگے آر ہے ہیںجو کہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے مشن کے مطابق بھی ہے ۔شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کا مقصد اس اقدام سے اون اورگوشت کی زبردست پیداوار حاصل کرنا اور نوجوانوں میں بے روز گاری کا خاتمہ کرنا ہے ۔ سکیم برآمدات اور ’ ویلیو ایڈڈ ‘ مصنوعات کے امکانات کو تلاش کر کے دیرپا طریقے سے مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کا تصور کرتی ہے ۔ بھیڑ پالن صنعت میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی جا رہی ہے اور لائیو سٹاک پروڈیوسروں کی اکثریت کی سماجی و اِقتصادی صورتحال بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ اس کی وجہ اعلیٰ جینیاتی ممکنہ بھیڑوں کی نسلیں ، مارکیٹنگ کی سہولیات اور مقامی بیماریوں سے بچاؤ کے طریقہ کار کو متعارف کیا گیا ہے ۔










