اَتل ڈولو کا مرکزی معاونت والی سکیموں کی مؤثر عمل آوری کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور

سالانہ ایکشن پلان 2023-24 کی منظوری اورسفارش کیلئے میٹنگ کی صدارت کی

جموں//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے سول سیکرٹریٹ میں سال 2023-24ء کے سالانہ ایکشن پلان کی منظور ی اور سفارش کرنے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں وکشمیر میں زراعت سے متعلق مرکزی معاونت والی سکیموں کی مؤثر عمل آوری کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ میں مختلف سکیموں کے بارے میں سالانہ ایکشن پلان پیش کیا گیا جس میں راشٹریہ کرشی وِکاس یوجنا، ہولیسٹک ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پروگرام، ڈیجیٹل ایگری کلچر مشن ، کرشنو نتی یوجنا اور زراعت میں قومی اِی۔ گورننس پلان سمیت دیگر شامل ہیں۔ اِس مجوزہ منصوبے میں طاق فصلوں ، غیر ملکی سبزیوں اور ہائی ٹیک پروٹیکٹیڈ کاشت کاری ، فارم میکانائزیشن اور آٹو میشن ، تیل کے بیجوں کو فروغ دینے ، بارانی علاقوں کی ترقی اور بیجوں اور بیجوں کوفروغ دینے کی توقع ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت کے لئے پیچیدہ منصوبہ بندی اور فنڈز کی معقول ضروریات پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ مجوزہ اجزأ متعلقہ رہنما خطوط کے تحت قابلِ قبول ہوں اور عمل درآمد سے پہلے ہر پروجیکٹ کے لئے تفصیلی ڈی پی آر تیار کریں۔اِن مجوزہ سکیموں کے نتائج میں کاشت کاری کے اَخراجات میں کم اَز کم 10 فیصد کمی ، پیداواراور پیدواریت میں کم از کم 12سے 15 فیصد اِضافہ ، محنت کشی میں 12فیصد کمی اور کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ شامل ہونے کی اُمید ہے۔اِس کے علاوہ فی ڈراپ مور کراپ پہل کے نتیجے میں زمین کو ڈرپ اری گیشن اور سپر نکلراری گیشن کے تحت شامل کرنے ، آبپاشی کی بہتر سہولیات اور پانی کی مجموعی طور پر 70 سے 90 فیصد بچت کی توقع ہے۔دورانِ میٹنگ مختلف سکیموں کے تحت بجٹ کے تخمینے اور ان کے متعلقہ اجزأ پر تفصیلی بات چیت ہوئی جنہیں مختلف محکموں نے مکمل کرنا ہے ۔ گزشتہ مالی برس کے دوران اَخراجات کا جائزہ لیا گیا او رنئے مالی برس کے لئے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار کا حساب لگایا گیا۔میٹنگ میں موجود اَفراد میں پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات ڈاکٹر موہت گیرا ، سیکرٹری جل شکتی دیپکا شرما، ڈی جی کمانڈ ائیریا ڈیولپمنٹ ، ڈائریکٹر انِ زراعت ، باغبانی ، اینمل ہسبنڈری ، شیپ ہسبنڈری ، سیری کلچر او رایم ڈی جیکے ایگر و کے علاوہ دیگر شامل تھے ۔ مختلف متعلقہ محکموں کے سینئر اَفسران نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔