سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے سول سیکرٹریٹ میں پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ ( پی ایم ایل) کو مضبوط بنانے اور ’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈی پی )‘کے تحت ہونے والی دیگر پیش رفتوں کے سلسلے میں ایک میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ میں ڈائریکٹر جنرل پلاننگ محکمہ زرعی پیداوار ، سپیشل سیکرٹری زرعی پیداوار ، مشن ڈائریکٹر ایچ اے ڈی پی ، بل اینڈ میلنڈ ا گیٹس فائونڈیشن کی ندھی سری نواس انکور بنسل ، سی اِی او ۔فائونڈر جی ڈی آئی ( بی ایم جی ایف ) ، ممبر پی ایم یو ، تکنیکی اَفسران نے شرکت کی۔ابتداً ، جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دی گئی جس میں میگا پروجیکٹ کی عمل آوری میں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی اور ان کے حل تلاش کئے گئے ۔ اِس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران زراعت او راس سے منسلک شعبوں میں بہت سے ساز گار پیش رفت ہوئی ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اَفسران پر زور دیا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کو اس کے اغراض و مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے مکمل طور پر عملانے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اَپنے مقاصد میں واضح ہونا ہوگا اور متضاد موڈ میں ٹائم لائنز پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔اُنہوں نے کہا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کی مؤثر عمل آوری کے لئے مختلف پہلوئوں جیسے پروکیورمنٹ ، آئی ٹی ، ویلیو چین ڈیولپمنٹ اور مارکیٹنگ میں اَپنی اِضافی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔اَتل ڈولو نے کہا کہ اہم منصوبہ جموں وکشمیر میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں نمایاں بہتری لائے گاجس سے خطے کی معیشت کو فروغ ملے گا اور کسانوں اور صارفین کو یکساں فائدہ پہنچے گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت ہونے والی اَقدامات سے خطے میں پیداوار کے معیار اور مقدار میں اِضافہ ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ فوائد حاصل کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے لے کر مخصوص تکنیکی اقدامات تک کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے دیگر حصوں سے ماہرین کی ٹیمیں اَپنے ماڈلز کو شیئر کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کا دورہ کریں گی اور یہاں بہترین طریقوں کو اَپنایا جائے گا۔اَتل ڈولو نے ’ کسان سمپرک ابھیان‘ کے بارے میں کہا کہ لوگوں نے بہت زیادہ جوش و خروش دِکھایا ہے اور بڑی تعداد میں اِس میں حصہ لے رہے ہیں او رہمارا عزم ہے کہ تمام کاشت کار گھرانوں میں خوشحالی ہو۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کی عمل آور سے جموںوکشمیر میں 2,62,006کنبوں پر زوردینے سے 13لاکھ فارم کنبوں کے لئے روزی روٹی محفوظ ہوجائے گی، 18,861 اِضافی کاروباری اِداروں کی تخلیق اور اِضافی 2,87,910 ملازمتیں اور ہنر کی نشو و نما 2.5 لاکھ اَفراد کو زرعی ہنر کی تربیت دی گئی۔ایک او رعلاحدہ میٹنگ میں اَتل ڈولو نے جموںوکشمیر میں زراعت کو جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کی عمل آوری کے لئے اِختراعی طریقہ کار سے متعلق ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔میٹنگ میں یہ بتایا گیا کہ پنچایت سطح کے کامن سروس سینٹروں ( کسان خدمت گھر) پورے علاقے کے مخصوص زرعی منصوبے اور ماڈلز کے لئے رہ ہموار کریں گے ۔بلاک لیول ایگری ایکسٹینشن ایڈوائزری کمیٹی ویلیو چین کے ساتھ کسانوں کے دہلیز پر خدمات فراہم کرے گی۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کی عمل آوری سے ہی رئیل ٹائم ایگر و ایڈوائزر یز اور علم / ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تیز رفتار رَسائی کسانوں کو دستیاب ہوگی جس سے ان کی آمدنی میں کئی گنا اِضافہ ہوگا۔










