بسنت گڑھ اودھمپور کے جنگلاتی علاقے میں تلاشی مہم کو وسیع کردیا گیا
سرینگر///اودھمپور کے بسنت گڑھ جنگلاتی علاقے میں دوسرے روز بھی شدت پسندوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری رہا جبکہ اس تلاشی مہم میں فوج، ایس او جی ، فورسز کی بھاری نفری شامل ہے اس کے علاوہ کھوجی کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے ادھم پور ضلع کے بسنت گڑھ کے گھنے جنگلات میں شدت پسندوں کے دو گروہوں کا سراغ لگانے اور انہیں بے اثر کرنے کے لیے ایک وسیع سرچ آپریشن پیر کو دوسرے دن میں داخل ہو گیا۔اتوار کو علی الصبح چھوچرو گالا کی اونچائیوں کے دور افتادہ پنارا گاؤں میں شدت پسندوں کے ساتھ ایک مختصر تصادم میں ایک ولیج ڈیفنس گارڈ (وی ڈی جی) مارا گیاتھاجس کے بعد پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے تلاش شروع کی۔اس ضمن میں ایک پولیس اہلکار نے کہاکہ آپریشن جاری ہے اور فرار ہونے والے ملیٹنٹوں کے ساتھ کوئی تازہ رابطہ نہیں ہوا۔ شدت پسندوں کا سراغ لگانے اور انہیں بے اثر کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے اضافی فورسز آج صبح منتقل ہو گئی ہیں۔جموں زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آنند جین نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے دو گروپ حال ہی میں سرحد پار سے دراندازی کے بعد علاقے میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں گروپوں کی تعداد چار سے چھ کے درمیان ہے اور سیکورٹی فورسز ان کو ختم کرنے کے لیے مختلف معلومات پر کام کر رہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق دہشت گرد سرحد پار سے اس طرف گھسنے میں کامیاب ہونے کے بعد ملحقہ کٹھوعہ ضلع سے بسنت گڑھ پہنچے تھے اور وادی چناب کی طرف جارہے تھے جب پولیس اور وی ڈی جی کے ارکان نے ان کا سامنا کیا۔عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور وی ڈی جیز نے ہفتے کی شام دیر گئے جنگل کے علاقے میں دھاوا بول دیا۔










