20 برسوں میں سب سے بہتر فصل: چیف ایگریکلچر آفسر اننت ناگ
سرینگر// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دھان فصل کی کٹائی کا سیزن جوبن پر ہے اور کسان اپنے اپنے کھیت کھلیانوں میں انتہائی مصروف دیکھے جا رہے ہیں۔دریں اثنا چیف ایگریکلچر آفسر اننت ناگ اعجاز احمد بٹ نے وائس آف انڈیا کے ساتھ اپنی مختصر گفتگو کے دوران کہا کہ گذشتہ بیس برسوں کے دوران امسال سب سے بہتر دھان کی پیداوار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری دھان کی پیدا وار 70 کوئینٹل فی ایکٹر ہوتی تھی جو امسال 80 کوئینٹل فی ایکٹر ہونے کی توقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں 130 ملی میٹر بارش ہوتی تھی لیکن امسال ان دو ماہ کے دوران230 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جو بہتر فصل کا موجب بن گئی۔موصوف آفیسر نے کہا کہ پہلے جب دھان کی پنیری لگانے کا کام شروع ہوا تھا تو ہمیں ضلع ننت ناگ کے کچھ علاقوں میں خشک سالی پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر ہم نے متبادل فصل اگانے کا پلان بھی بنایا تھا لیکن بعد میں اللہ کی مہر بانی سے سب ٹھیک ہوا۔ ضلع اننت ناگ کے کسانوں کے چہرے پر مسرت و شادمانی نمایاں ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ امسال دھان کی فصل کافی اچھی ہے۔ہانجی دانتر سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد ملک نامی ایک کسان نے وی او ا?ئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ امسال دھان کی فصل کافی اچھی ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال بارشیں بھی کم ہوئیں اور دھوپ بھی رہی جس کی وجہ سے فصل اچھی ہوئی اور پانی کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔غلام محمد شیخ نامی ایک کسان نے کہا کہ امسال دھان کی فصل توقع سے بھی بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے امسال اپنی ہی کھیت سیسال بھر کے لئے چاول حاصل ہوگا اور دکان یا راشن گھاٹ سے خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ چند برس قبل میں اپنے کھیت کا چاول فروخت بھی کرتا تھا اور سال بھر اپنے لئے بھی استعمال کرتا تھا لیکن اب چونکہ کئی کنال اراضی پر سیب کے باغ لگائے ہیں جس کی وجہ سے اگر فصل اچھی نہ ہوگی تو چاول خریدنا پڑتا ہے۔محمد حسین میر نامی ایک زمیندار نے کہا کہ اب زرعی اراضی تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ باہر کے چاول پر زیادہ سے زیادہ منحصر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ جب ہمارے گاؤں میں چاول کی پیداوار اتنی ہوتی تھی کہ ہمارے ہمسایہ ایک دو گاؤں ہم سے ہی چاول خریدتے تھے لیکن ا?ج صورتحال یہ ہے کہ ہمیں خود راشن گھاٹ سے چاول خریدنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ زرعی اراضی پر سیب کے باغ لگا رہے ہیں اور دھان کی فصل اگانے کے لئے انتہائی کم اراضی رکھتے ہیں۔موصوف کا کہنا تھا کہ کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں تمام زرعی اراضی پر سیب یا دوسرے میوہ کے باغ لگے ہیں۔تاہم جنوبی کشمیر کے قصبہ کوکر ناگ کے ناگم علاقے سے تعلق رکھنے والے گلزار احمد شاہ کا کہنا ہے کہ ہمیں امسال دھان فصل میں کم سے کم پچیس فیصد نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی فصل تسلی بخش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ تر خود ہی فصل کٹائی کرتے ہیں تاہم کچھ لوگ غیر مقامی مزدورں سے یہ کام لیتے ہیں۔گلزار احمد نے کہا کہ ہمارا گاؤں بہتر چاول کی پیداوار کے لئے مشہور ہے اور کشمیر میں دھان کٹائی کا کام سب سے پہلے ہمارے گاؤں میں ہی شروع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں کے لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار اسی پر منحصر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ تجارت پیشہ بھی ہیں اور کچھ سرکاری نوکری بھی کرتے ہیں تاہم اکثریت زمینداری سے ہی وابستہ ہے۔تاہم گلزار احمد شاہ کا الزام تھا کہ حکومت ان کے گاؤں کی تعمیر و ترقی کے لئے توجہ نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں کی سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے جن کی مرمت کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔










