ہسپتال میں حالت مستحکم ، علاج و معالجہ جاری ہے ۔ حکام
سرینگر///اننت ناگ میں گزشتہ نامعلوم بندو ق برداروں کے حملے میں زخمی ہوئے سیاحوں کی حالات ہسپتال میں بہتر ہورہی ہے اور ان کا علاج و معالجہ جاری ہے ۔ ادھر پولیس نے حملوں آوروں کو پکڑنے کیلئے مختلف ذائویوںپر تحقیقات شروع کردی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموںو کشمیر کے پہلگام علاقے میں گزشتہ ہفتے دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے سیاح جوڑے کی حالت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سیاح تبریز خان اور ان کی اہلیہ فرح آرمی کے 92 بیس ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وہ دونوں مستحکم ہیں اور ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے ۔انہوںنے بتایا کہ جب فرح کو کندھے میں گولی لگی، تبریز کو مزید شدید چوٹیں آئیں کیونکہ گولی اس کے چہرے پر لگی تھی۔یہ واقعہ ہفتے کی رات اس وقت پیش آیا جب راجستھان سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا، جو اپنے دو بچوں کے ساتھ کشمیر کے پہلے دورے پر تھا، پہلگام کے یانر میں رات کا کھانا کھانے کے لیے بس سے اتر رہے تھے۔موٹرسائیکل پر سوار دہشت گردوں کی فائرنگ سے جوڑے کو چوٹیں آئیں۔’’وہ (جوڑے) دن کے وقت پہلگام گئے اور رات کے کھانے کے لیے ایک ہوٹل جا رہے تھے۔ وہ ایک ٹیمپو مسافر سے اتر کر رات کے کھانے کے لیے ہوٹل کے اندر جا رہے تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے اور فائرنگ کر دی۔ فرحہ کو کندھے پر گولی لگی۔ تبریز کے والد اسلم خان نے جے پور میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے دو بچے بھی ان کے ساتھ تھے۔ واضح رہے کہ سنیچر وار کی شام کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نامعلوم بندوق برداروںنے سیاحوں پر گولیاں چلاکر ان کو شدید زخمی کردیا تھا ۔جبکہ اسی شام قریب ایک گھنٹہ بعد شوپیاں میں بندوق برداروں نے بی جے پی کے ایک سرگرم کارکن کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔










