omar abdullah

اننت ناگ راجوری نشست کے چنائو کی ری شیڈولنگ کا مطالبہ ایک سازش

اقدام جموںوکشمیر میں انتخابی عمل کیلئے نقصادہ ثابت ہوگا، الیکشن کمیشن اقدام کی اجازت نہ دے /عمر عبداللہ

سرینگر // نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو اننت ناگ-راجوری نشست پر لوک سبھا انتخابات کے مجوزہ ری شیڈولنگ سے اجتناب کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’پولنگ باڈی کو دوسری پارٹیوں کے خیالات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ‘‘سی این آئی کے منطابق پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں اننت ناگ راجوری نشست سے نیشنل کانفرنس اُمیدوار میاں الطاف احمد کے ہمراہ ایک ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ بی جے پی اور ان کی ذیلی پارٹیاں انتظامیہ اور ای سی آئی کے ساتھ مل کر اننت ناگ-راجوری پارلیمانی سیٹ پر انتخابات کو مغل روڈ کی خراب حالت کا بہانہ بنا کر دوبارہ شیڈول کرنے کی سازش رچا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ’’میں الیکشن کمیشن آف انڈیا سے اپیل اور متنبہ کرتا ہوں کہ اس طرح کے کسی بھی اقدام سے جموں و کشمیر میں انتخابی عمل کو نقصان پہنچے گا اور اس طرح کے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘ای سی آئی کے جاری کردہ خط پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ خط حیران کن ہے۔ وہاں وہ جماعتیں اور افراد ہیں جو وہاں الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں۔ بی جے پی اور پی سی کا اس حلقے سے کوئی بھی اُمیدوار نہیں ہے ۔ کیا وہ ایک بار پھر اس بات کررہے ہیں کہ انہوں نے اپنی پراکسیوں کو وہاں کھڑا کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کل اگر میں الیکشن کمیشن سے رجوع کروں گا اور مطالبہ کروں کہ تمل ناڈو یا کیرالہ میں پولنگ کو دوبارہ شیڈول کریں۔ پہلے تو کیا اپروچ مجھے زیب دیگا اور کیا پھر الیکشن کمیشن میری اس راے پر غور کرے گا؟انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا آزاد امیدوار کو انتخابی مہم میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے لوگوں تک پہنچنے کے لئے ریاسی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔’’الیکشن کمیشن کو ہر پارٹی کے خیالات پر غور کرنا چاہئے۔ اگر ہمارے خیالات پر غور نہیں کیا جا رہا ہے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انتخابات کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔‘‘ این سی نائب صدر نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک خطہ کے ذریعے تحریری طور پر مطلع کریں گے۔