حفاظتی انتظامات کا از سر نو جوائزہ لینے کے بعد حفاظتی بندوبست کو حتمی شکل
سرینگر//25مئی کو پارلیمانی نشست اننت ناگ راجوری کیلئے انتخابات ہورہے ہیں جس کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کئے گئے ہیں اور جنوبی کشمیر میں حفاظت کے سخت اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ۔اننت ناگ-راجوری پارلیمانی سیٹ پر 18 اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ 1830294 ووٹر ہیں جن میں 930379 مرد اور 899888 خواتین ووٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ 27 تیسری جنس شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔اننت ناگ-راجوری پارلیمانی سیٹ پر 25 مئی کو بے گھر ووٹروں کی ووٹنگ کے لیے جموں میں 21 پولنگ اسٹیشن اور آٹھ معاون مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ادھر گزشتہ دنوں ایک سیا ح گاڑی پر حملے اور ایک بی جے پی کارکن کی ہلاکت کے بعد ضلع میں حفاظتی انتظامات کا از سر نوجائزہ لیا گیاتاکہ انتخابات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو قبل از وقت ٹالا جاسکے ۔ ادھر دور دراز علاقوں میں اضافی فورسز نفری تعینات کی جارہی ہے ۔ اس بیچ انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں تاکہ امیدواروں اور رائے دہندگان اپنے ووٹ کا آزادانہ طور پر کر سکیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں پارلیمانی نشست راجوری اننت ناگ کیلئے 25مئی کو انتخابات ہورہے ہیں جس کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور حفاظت کے کڑے بندوبست کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایاکہ جنوبی کشمیر کے دو اضلاع میں ایک ہی دن تشدد کے دو الگ الگ واقعات رونماء ہونے کے بعد جس میں ایک بی جے پی کے سرگرم رکن کی جان چلی گئی اور دو سیاح زخمی ہوئے تھے کے بعد انتخابات کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ۔ادھر انتخابات کا احسن طریقے سے منعقد کرانے کیلئے الیکشن کمیشن آفیسر اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتظامات مکمل کئے گئے ہیں اور عملہ کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے ۔ جبکہ دور دراز علاقوں کیلئے پولنگ عملہ کو کل روانہ کیا جائے گا ۔ ادھر کئی خصوصی پولنگ مراکز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جن میں خواتین کیلئے خصوصی پولنگ مراکز، مردوں کیلئے الگ ، عمر رسیدہ افراد اور جسمانی طور معذور افراد کیلئے خصوصی پولنگ بوتھ قائم کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس نشست پر پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی ، نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر میاں الطاف کے درمیان سخت مقابلہ آرائی کا امکان ہے ۔ دریں اثناء اننت ناگ-راجوری پارلیمانی سیٹ پر 18 اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ 1830294 ووٹر ہیں جن میں 930379 مرد اور 899888 خواتین ووٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ 27 تیسری جنس شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔اننت ناگ-راجوری پارلیمانی سیٹ پر 25 مئی کو بے گھر ووٹروں کی ووٹنگ کے لیے جموں میں 21 پولنگ اسٹیشن اور آٹھ معاون مراکز قائم کیے جائیں گے۔ جموں میں جگتی سمیت دیگر مقامات پر رہنے والے تقریباً 27 ہزار کشمیری پنڈت ان بوتھوں پر ووٹ ڈال سکیں گے۔ قبل ازیں سری نگر اور بارہمولہ پارلیمانی نشستوں پر ووٹنگ کے لیے تین معاون پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ اننت ناگ-راجوری سیٹ پر بے گھر ووٹروں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اضافی پولنگ اسٹیشنوں کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اننت ناگ-راجوری پارلیمانی سیٹ پر 18 اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ 1830294 ووٹر ہیں جن میں 930379 مرد اور 899888 خواتین ووٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ 27 تیسری جنس شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔انتخابی افسر نے کہا کہ اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے بے گھر ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی سہولت کے لیے اضافی معاون پولنگ اسٹیشنز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تمام آٹھ مراکز مرکزی پولنگ اسٹیشنوں کے اندر قائم کیے جائیں گے۔ ان کا مقصد ووٹنگ کو جلد مکمل کرنا ہے۔ بے گھر ہونے والے زیادہ تر ووٹروں نے ووٹ فار ہوم ووٹنگ میں پوسٹل لیٹر کے ذریعے ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی ہے۔اننت ناگ-راجوری کی ہاٹ سیٹ بھی بی جے پی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ بھلے ہی بی جے پی نے اس سیٹ پر براہ راست کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے لیکن اس نے اندرونی طور پر اپنی پارٹی کی حمایت کی ہے۔حال ہی میں، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور جموں و کشمیر کے امور کے انچارج ترون چْگ نے اننت ناگ پارلیمانی سیٹ پر کئی میٹنگیں کیں اور مودی حکومت کی کامیابیوں کو شمار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جمہوریت کے دشمن این سی، پی ڈی پی اور کانگریس جیسی سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔ان جماعتوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ریاستی صدر رویندر رینا، جو منگل کو نوشہرہ میں ایک میٹنگ میں پہنچے، نے کہا کہ بی جے پی کشمیر پر مرکوز سیٹوں پر بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ پارٹی نے ان نشستوں پر کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنا اس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈران اننت ناگ سیٹ پر انتخابی مہم چلانے کے لیے وہاں موجود ہیں۔










