امر سنگھ کلب سرینگر میں "ڈیجیٹل لت ایک نظر نہ آنے والی وبا" کے عنوان سے بامقصد پروگرام کا انعقاد

امر سنگھ کلب سرینگر میں “ڈیجیٹل لت ایک نظر نہ آنے والی وبا” کے عنوان سے بامقصد پروگرام کا انعقاد

اگر ہم نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو ہمیں ایک سماجی طور پر منقطع نسل کا سامنا کرنا پڑے گا/ ایڈووکیٹ ظفر شاہ

سرینگر / / انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے خدشات کو اُجاگر کرنے کے لیے امر سنگھ کلب سرینگر میں ایک فکر انگیز پروگرام منعقد ہوا جس کا عنوان تھا “ڈیجیٹل لت ایک نظر نہ آنے والی وبا”۔ اس پروگرام کا مقصد بچوں اور نوجوانوں میں اسکرین ٹائم، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، ای شاپنگ اور اسمارٹ فون کے بے قابو استعمال کے مضر اثرات پر روشنی ڈالنا تھا۔ تقریب کا اہتمام امر سنگھ کلب سرینگر کے سیکریٹری ناصر حامد خان نے کیا، جبکہ صدارت معروف قانون دان اور سینئر کونسل ایڈووکیٹ ظفر احمدشاہ نے کی۔ تعلیم کے شعبے سے وابستہ کئی ممتاز شخصیات اور ماہرین نے پروگرام میں شرکت کی اور ڈیجیٹل لت کے سماجی اور نفسیاتی اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کشمیر پریس سروس کے بیان کے مطابق اپنے صدارتی خطاب میں ایڈووکیٹ ظفر اے شاہ نے کہاکہ ، “ڈیجیٹل لت ہماری زندگی کا ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جو نہ صرف تعلیم بلکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ کھیل کود، آوٹ ڈور سرگرمیاں اور عملی تجربات بچوں کو اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے بچا سکتے ہیں۔ والدین، اسکول، سول سوسائٹی اور حکومت کو ایسے محفوظ مقامات فراہم کرنے چاہئے ۔جہاں بچے جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات آئندہ نسلوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کی زندگیوں پر گہرے نقوش چھوڑیں گے۔” انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کی کڑی نگرانی کریں اور انہیں سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز کے بجائے تعلیمی مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی طرف راغب کریں۔اس موقعہ پرپروفیسر گل محمد وانی نے کہا “تعلیم کا مقصد صرف امتحانات کی تیاری نہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں ٹیکنالوجی نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے، ہمیں اپنے تعلیمی طریقوں کو جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم بچوں اور نوجوانوں کی رہنمائی کیسے کریں تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں کھو نہ جائیں۔ بدقسمتی سے، نہ اسکول، نہ یونیورسٹیاں اور نہ ہی والدین اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل لت نے کتابیں پڑھنے کی عادت کو ختم کر دیا ہے، جو ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری اقدامات کریں اور طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کریں۔پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے صدر ڈاکٹر جی این وار نے امر سنگھ کلب کی انتظامیہ کو اس بامقصد پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، “اساتذہ کے پاس طلبہ کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی طاقت ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں کے اسمارٹ فون کے حد سے زیادہ استعمال پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ ’ہم تمہاری شکایت ٹیچر سے کریں گے۔‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ اپنے اساتذہ کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ اساتذہ کو اس اثر و رسوخ کو مثبت طور پر استعمال کرنا چاہیے تاکہ طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔” انہوں نے اسکولوں میں ایسی پالیسیوں کے نفاذ پر زور دیا جو طلباء￿ میں اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال کو محدود کریں اور ایک متوازن اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کریں۔امر سنگھ کلب کے سیکریٹری ناصر حامد خان نے کہا، “ڈیجیٹل لت ایک نظر نہ آنے والی وبا ہے جو خاموشی سے ہر عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد انٹرنیٹ، ویڈیو گیمز، سوشل میڈیا، ای شاپنگ اور اسمارٹ فون کے مضر اثرات کے بارے میں ا?گاہی فراہم کرنا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم ٹیکنالوجی اور حقیقی زندگی کے درمیان توازن قائم کریں تاکہ ذہنی اور جسمانی صحت محفوظ رہے۔اس موقعہ پر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن وومنز ونگ کی صدر شیخ عشرت ٹنکی نے کہا کہ ڈیجیٹل آلات کے حد سے زیادہ استعمال نے بچوں میں ذہنی دبائواور اضطراب میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے ابھی اقدامات نہ کیے تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو سماجی طور پر منقطع، ذہنی طور پر دباوکا شکار اور جسمانی طور پر غیر صحت مند ہوگی۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے تعاون سے بچوں میں متوازن ڈیجیٹل عادات کو فروغ دیں۔اس موقعہ پر”پی ایس اے جے کے، کی پی آر او ڈاکٹر سید روفیدہ صولحہ نے کہاکہ ڈیجیٹل لت کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے میں خاموشی سے خرابیاں پیدا کر رہا ہے۔ اگر ہم نے بروقت مداخلت نہ کی تو اس کے نتائج دور رس ہوں گے۔ والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ بچوں میں بامقصد مشغولیت، بہتر سوچ اور صحت مند طرزِ زندگی کی حوصلہ افزائی کریں۔دیگر مقررین میں سابق کے سی سی آئی صدر رئوف پنجابی، ہیریٹیج اسکول آف نالج کی وائس پرنسپل ممتازہ اختر، اسلامک گلوبل اسکول کی پرنسپل عروج قادری، گرین لینڈ اسکول آف ایجوکیشن کی ایڈمنسٹریٹر عفیفہ خاور اور کشمیر ہارورڈ اسکول کے پرنسپل شامل تھے۔ مقررین نے بچوں اور نوجوانوں میں ڈیجیٹل لت کے خطرناک نتائج پر روشنی ڈالی اور والدین، اساتذہ اور معاشرے پر زور دیا کہ وہ اسکرین کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تقریب کے آخر میں شرکاء نے امر سنگھ کلب کی انتظامیہ کو اس اہم موضوع پر بامقصد مباحثے کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے آگاہی پروگراموں کا تسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ آئندہ نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت محفوظ بنائی جا سکے۔