امریکا کی پاکستان کے معاشی استحکام، آئی ایم ایف سے مسلسل روابط میں تعاون کی یقین دہانی

امریکا کی قائم مقام ڈپٹی سیکریٹری خارجہ وکٹوریا نولینڈ کا نگران وزیر خارجہ جلیل عباس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں انہوں نے پاکستانی معیشت کے استحکام اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مسلسل روابط میں واشنگٹن کی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ مہینے ’معاشی استحکام پروگرام میں حمایت کے لیے‘ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) معاہدے کی منظوری دی تھی۔
26اگست کو نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کے عملے کے مشن کے ساتھ تعارفی بات چیت کی تھی، اس حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ انہوں نے وعدہ کیا کہ نگران حکومت معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت کیے گئے پالیسی اقدامات پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ دونوں فریقین کے پاس پروگرام کے نفاذ کی ایک غیر رسمی اپ ڈیٹ تھی، جس میں اکتوبر یا نومبر کے اوائل میں ہونے والے دوسرے سہ ماہی جائزے کی کامیابی سے تکمیل کے لیے ضروری ساختی معیارات پر خاص زور دیا گیا تھا، جس کے تحت ستمبر کے آخر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تقریباً 71 کروڑ روپے کی دوسری قسط دسمبر میں ملے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وکٹوریا نولینڈ نے جلیل عباس جیلانی کو بطور نگران وزیر خارجہ تقرر پر مبارکباد دی۔ مزید بتایا گیا کہ انہوں نے پاک۔امریکا شراکت داری کو وسیع اور مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا، جس میں پاکستان کے معاشی استحکام، خوشحالی اور آئی ایم ایف کے ساتھ روابط کا تسلسل شامل ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بتایا کہ ان کے درمیان بات چیت میں ’پاکستان کے معاشی استحکام، خوشحالی اور آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے‘ پر توجہ مرکوز رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں نے پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق بروقت، صاف اور شفاف انتخابات کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ وکٹوریا نولینڈ نے علیحدہ سے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ہم نے دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کے معاشی استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم پر تبادلہ خیال کیا۔ اگلے مہینے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں نگران وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ کی شرکت کا بھی امکان ہے، پاکستانی وفد میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی نیویارک میں امریکی حکام کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہونے کی امید ہے۔گزشتہ ہفتے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ نگران حکومت کی اہم ذمہ داری الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ 24اگست کو امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے ملاقات کی تھی اور پاکستان کے قوانین اور آئین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے امریکا کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد پاکستان میں انتخابات نومبر تک ہونا تھے اور رواں مہینے کے اوائل میں نگران حکومت کا اعلان کیا گیا تھا۔