ڈیجیٹل تبدیلی ، بنیادی ڈھانچے کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے 1522 کروڑ روپے کا بجٹ مختص
سری نگر//جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے میں 2023-24 ء کے لئے 1,522 کروڑ روپے کے بجٹ سے ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی جس میں قومی تعلیمی پالیسی کے مکمل عمل آوری ، ڈیجیٹل تبدیلی اور بنیادی ڈھانچے کی تخلیق پر توجہ دی جائے گی ۔ یہ بجٹ طلباء میں سائنسی مزاج کو ابھارنے کے لئے جموں و کشمیر یونین ٹیر ٹری ( ہر زون میں ایک لیب ) میں 188 ورچیول رئیلٹی لیبز کے قیام سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کی گنجائش بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 40 روبوٹک لیبز قائم کی جائیں گی ( ہر ضلع میں دو لیبز ) سکول کی ڈیجیٹل ایکویٹی ، خواندگی اور معاشی ترقی کو بہتر بنانے اور تدریس کے نئے طریقہ کار کو فروغ دینے کیلئے یونین ٹیر ٹری کے سکولوں میں تقریباً 500 سکولوں کو آئی سی ٹی لیبز اور 100ووکیشنل لیبز فراہم کی جائیں گی ۔ بجٹ دستاویز میںبتایا گیا کہ اس کے علاوہ طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے ہائی اور ہائیر سکینڈری سکولوں میں ایل سی ڈی اور تیز رفتار انٹر نیٹ کنکٹویٹی سے 1000 سمارٹ کلاس روم قائم کئے جائیں گے ۔ طلباء کو فِٹ رکھنے کیلئے ہم نصابی سرگرمیوں کے حصے کے طور پر تمام طلبہ کیلئے یوگا ٹریننگ متعارف کی جائے گی ۔ بجٹ میں 100ہائی اور ہائیر سکینڈری سکولوں میں کھلاڑیوں کیلئے چینجنگ روموں اور کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کی بھی تجویز ہے ۔ جموں و کشمیر میں سکولی تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے ہائی اور ہائیر سکینڈری سکولوں میں 500 اضافی کلاس روم فراہم کئے جائیں گے جس سے زائد اَز 20,000 طلباء مستفید ہوں گے ۔ اس کے علاوہ کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے پرائمری کلاسوں کے تمام طلباء کو مفت نصابی کتب اور یونیفارم فراہم کئے جائیں گے ۔ اس بات کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر کہ لڑکیاں بغیر کسی رکاوٹ کے سکول جانے کے قابل ہوں ، تمام سکولوں میں پینے کے پانی کی سہولیت اور صنفی بنیاد پر بیت الخلا کی سہولیت دستیاب کی جائے ۔ بجٹ میں معیاری پری پرائمری تعلیم کی فراہمی کیلئے 2023-24ء کے دوران 2000 کنڈر گارٹن کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ 2023-24ء کے دوران قبائلی طلبا اور کمزور طبقات کے طلباء کو ترجیح دیتے ہوئے 10 رہائشی سکول قائم کئے جائیں گے تا کہ انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے میرٹ کی بنیاد پر ان رہائشی سکولوں میں رہائش فراہم کی جا سکے ۔ حکومت جموںوکشمیرنے پہلے ہی قومی تعلیمی پالیسی ( این ای پی ) 2020 کی عمل آوری میں پیش قدمی کی ہے اورنئے بجٹ مختص سے فروغ ملنے کا امکان ہے جس میں این ای پی 2020ء کی مکمل عمل آوری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ بجٹ میں سمرتھ ’’اِی آر پی اِی گو سیوٹ ‘‘ کو 2023-24 ء میں مکمل طور پر نافذ کرنے کے اور 2023-24ء کے دوران ہائیر ایجوکیشن کونسل کو فعال بنانے کی بھی تجویز ہے ۔ نیز 2023-24 ء میں 32 کالجوں کی این اے اے سی ایکریڈیٹیشن مکمل ہو جائے گی ۔










