ہمیں اس بار جموں کشمیر کی سرکارسے کافی توقعات تھی لیکن پھر مایوس کیا گیا / صدر عبد الرشید بٹ
سرینگر // عید الفطر کی آمد آمد کے ساتھ ہی اس بار بھی جسمانی طو رپر ناخیز افراد ماہانہ وظیفہ سے محروم ہونے پر صدر جموں کشمیر ہینڈ کپیڈ ایسوی ایشن عبد الرشید بٹ نے کہا کہ انہیں اب جموں کشمیر سرکار سے کافی امیدیں وابستہ تھی لیکن آج ایک بار پھر عید پر انہیںمایوس کردیاگیا ۔ انہوں نے اس کمزور طبقے کو راحت پہچانے کیلئے فوری طور پر اقدامات اُٹھانے پر زور دیا ہے ۔سی این آئی کے مطابق عید الفطر کے موقعہ پر بھی جسمانی طور پر ناخیز افراد کو ماہانہ وظیفہ فراہم نہیں کیا گیا جس کے باعث وہ کسم پرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور محکمہ سوشل ویلفیر کے دفاتر کا چکر کاٹنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ا سی دوران عید کے اس مقدس موقعے پر بھی جسمانی طور ناخیز افراد ،بیوائوں اور یتیموں کو فراہم کی جانی والی امداد سے محروم رکھنے پر جموں و کشمیر ہینڈی کیپیڈ ایسوی ایشن کے صدر عبدالرشید بٹ نے انتظامیہ کے خلاف زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عید کے اس موقعہ پر امداد فراہم نہ کرنے کی وجہ سے جسمانی طور ناخیزافراد ،بیوائوں اور یتیم زبردست مشکلات کے شکار ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں جسمانی طور نا خیز افراد محکمہ سوشل ویلفئر کے دفاتروں کا طواف کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں قائم محکمہ کے دفاتر وں میں تعینات ملازمین قوانین و ضوابط کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں اور جسمانی طور ناخیز افراد کو نظر انداز کرکے منظور نظر افراد کے حق میں وظیفہ فراہم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جسمانی طور ناخیز افراد در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ بٹ نے کہا کہ اگرچہ محکمہ نے سیکرٹریٹ سے ہی مستحق افراد کے اکاوئنٹ نمبروں میں جمع کیا جائے گا تاہم آج تک کسی کے کھاتے میں کوئی بھی پیسہ جمع نہیں ہوا ہے ۔کیونکہ کچھ مستحقین کے بینک کھاتوں میں غلطیاں ہوئی ہے جن کو ٹھیک نہیںکرایا گیا جس کے نتیجے میں وہ گزشتہ کئی سالوں سے وظیفہ کے انتظار میں ہے تاہم ابھی تک وہ بھی وظیفہ کیلئے ترس رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کمزور طبقے کو راحت پہچانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ا س بار کافی امید تھی کہ جموں کشمیر میں عوامی سرکار ہے اور جسمانی طو رپر ناخیز افراد کی راحت رسانی کیلئے ہنگامی طو رپر اقدامات اٹھائے جائیں گے تاہم ایسا کچھ نہیں کیا گیا جس کے باعث ہم کسم پرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔










