اسرائیلی وزیر کے الاقصیٰ احاطہ کے دورہ کی مذمت

اسرائیلی وزیر کے الاقصیٰ احاطہ کے دورہ کی مذمت

نیویارک: امریکہ، اقوام متحدہ اور عرب ممالک نے اسرائیل کے سخت موقف رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اور سینکڑوں حامیوں کے یروشلم میں الاقصیٰ مسجد کے احاطے کے دورے کی مذمت کی ہے جہاں انہوں نے یہودی طریقے سے عبادت کی۔واشنگٹن نے اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ا تمار بن گویر کی طرف سے منگل کو اسرائیلی پولیس کی مدد سے مسجد کے احاطے میں دھاوا بولنے کی “یکطرفہ کارروائی” پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایسی اشتعال انگیزی قرار دیاجس کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری غزہ جنگ میں جنگ بندی کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا، ’’کوئی بھی یکطرفہ کارروائی، جو یہ ہو سکتی ہے ، اور جس کے نتیجے میں اس طرح کے تعطل کی صورتحال خطرے میں پڑ جائے ، ناقابل قبول ہے۔‘‘ویدانت نے کہا کہ،’’ امریکہ یروشلم کے مقدس مقامات کے تاریخی تحفظ کو برقرار رکھنے کیموقف پر سختی سے قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ (کارروائی) نہ صرف ناقابل قبول ہے، بلکہ یہ ایسے میں ہمارے راستے میں روکاوٹیں پیدا کرتی ہے جو ہمار ے خیال میں جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی ہماری کوششوں کیلئے ایک اہم وقت ہے۔‘‘اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیان قداح نے کہا کہ اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات اور یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی خلاف ورزیاں ایک واضح اور مضبوط بین الاقوامی ردعمل اور تحفظ کا تقاضا کرتی ہیں۔بن گویر مسجد کے احاطے میں یہودیوں کی جانب سے نماز کی ادائیگی پر اسرائیلی حکومت کی دیرینہ پابندی کی بارہا مخالفت کر چکے ہیں۔ یہودیوں میں ٹمپل ماؤنٹ کے نام سے معروف یہ مقام مشرق وسطیٰ کا حساس ترین مذہبی مقام ہے۔ یہودیوں اور دوسرے غیر مسلموں کو مخصوص اوقات کے دوران مسجد کے احاطے میں جانے کی اجازت ہے، لیکن انہیں وہاں عبادت کرنے یا مذہبی علامات کی نمائش کی اجازت نہیں ہے۔گزشتہ ماہ بین گویر نے اعلان کیا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ٹیمپل ماؤنٹ میں یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
تاہم، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے فوری طور پر ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔اسی دوران اسرائیل کے وزیر خاخلہ موشے اربیل نے، جن کا تعلق انتہائی قدامت پسند شاس اتحادی پارٹی سے ہیکہا، “وہ دن آئے گا جب بین گویر کی ٹرولنگ ختم ہو جائے گی۔ توریت کو کبھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔”تجزیہ کار دانیہ کولیلات خطیب نے وی او اے کو بتایا کہ بن گویر جیسے سخت موقف کے حامل غزہ کا معاہدہ نہیں چاہتے، وہ اس یقین کے تحت کہ اسرائیل محصور علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لے گا، چاہتے ہیں کہ جنگ جاری رہے۔خطیب نے جو بیروت میں تعاون اور امن کی تشکیل سے متعلق ریسرچ سینٹر کی صدر ہیں، کہا کہ وہ ( سخت گیر یہودی )حماس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں چاہتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس کے ساتھ معاہدہ کرنے کا مطلب اس کو تسلیم کرنا ہے۔
خطیب نے مزید کہا کہ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں ہے کہ بین گویر نے امریکی صدر جو بائیڈن، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے اس اعلان کے فوری بعد کہ اب ہمیں اسے( معاہدے ) کو انجام دے دینا چاہیے، یہ کارروائی کی ہے۔