منعقدہ تقریب میں لوگوں اورادیبوں کی بڑی تعداد کی شرکت
سری نگر//ادارہ نگینہ انٹرنیشنل اور کشمیر بک پرموشن ٹرسٹ کے مشترکہ اہتمام اور میزان پبلشرز کے اشتراک سے کل ایک عید ملن کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایوان ادب ہوٹل شہنشاہ پیلس بلیوارڈ میں ایک پر وقار تقریب عمل میں لائی گئی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد شریک ہوئے۔مقررین میں مولانا شوکت حسین کینگ، ستیش ومل، ڈاکٹر کیرت سنگھ انقلابی، ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی، غلام نبی حلیم، پیر امتیاز الحسن، شبیر احمد ماٹجی وغیرہ شامل تھے۔ جبکہ نور شاہ، پروفیسر محمد زمان آ زردہ، پروفیسر شاد رمضان، ایڈوکیٹ عبد الرشید ہانجورہ، وقف بورڈ کیمبر مولانا سید محمد حسین، ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ، شاعر و مصنف اسفندیار خان، ٹیچرس فورم کے صدر شوکت احمدبٹ، معروف مصنف و ٹیلی کاسٹر سید نسار الحسن گیلانی ، انجمن فروغ علم و ادب کے صدر عبد الاحد کاغذگر۔ صحافی عبد الغنی راسخ اور ظہور شاعر، قلمکار جاوید شبیر، معروف گلوکار راجا بلال، یتیم فاؤنڈیشن کے رفیق صاحب، ابو عارف ، ڈاکٹر بشیر احمد غمگین ،کشمیر ٹریڈرس فیڈریشن کے نمائندے فیاض احمد، ادبی مرکز کمراز کے سابق صدر فاروق رفیع آ بادی، نگینہ کے منیجر اختر معراج، صوفی علی محد، ہرپال سنگھ, ابوبکر احمد سید، گلزار کو چھے وغیرہ شامل ہیں۔ تقریب کا آ غا ز عادل منظور کی تلاوت اور راجا بلال کی نعت سے ہوا۔ نگینہ انٹرنیشنل کے سربراہ وحشی سید نے مہمانوں کا رسمی طور استقبال کیا۔ میزان پبلشرز کے شبیر احمد ماٹجی نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ ایسی مجالس کے اہتمام سے سماج کی تشکیل و ترتیب میں مدد ملتی ہے۔ چنانچہ معروف محقق اور مسلم وقف بورڈ کے ممبر غلام نبی حلیم نے حضرت شیخ العالم کے فرمودات اور کلام کی روشنی میں سماج میں پائی جانے والی خامیوں اور خرابیوں کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ کلام شیخ میں ان سبھی کوتاہیوں کا علاج مضمر ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کے اقبال انسٹیٹیوٹ آف فلاسفی اور کلچر کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی نے کلام اقبال کو سماج سدھار کے لئے ایک نسخہ کیمیاء بتایا۔ معروف براڈکاسٹر ستیش عمل نے کہا کہ سماج میں موجود مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ سرکردہ تاجر رہنما پیر امتیاز الحسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ سماج کے کسی بھی شعبہ کے منتخبہ نمائندے اپنے لوگوں سے سچ و صداقت پر مبنی حقائق ظاہر کرنے سے کتراتے ہیں۔ اپنی صدارتی تقریر میں معروف عالم دین مولانا شوکت حسین کینگ نے کہا کہ جس سماج میں انسانی، اخلاقی اور دینی اقدار کا فقدان ہو وہ سماج کے طور اپنی اہمیت اور افادیت ہی نہیں بلکہ اپنا نام اور پہچان کھو جاتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر کیرت سنگھ انقلابی کی پنجابی شاعری کے کشمیری ترجمہ پر مبنی کتاب “کل وسان کول ” کی رونمائی انجام دی گئی۔ اس شاعری کا کشمیری ترجمہ سورگیہ موتی لال ساقی نے کیا ہے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر کیرت سنگھ نے اپنی کتاب کا تعارف بھی پیش کیا۔اور سوگیہ ساقی کی ادبی خدمات کو سراہا گیا۔ تقریب پر نظامت جاوید ماٹجی نے کی۔










