سرینگر / / ادارہ تحقیق و ادب جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام سلسلہ وار آن لائن ادبی نشست محفلِ افسانہ کا تیسرا شمارہ منعقد کیا گیا، جس میں ممتاز افسانہ نگار رنکو کول نے اپنا افسانہ ’’ہانڑھ ‘‘پیش کیا۔ اس افسانے پر تنقیدی تبصرہ ڈاکٹر یونس مہدی نے پیش کیا، جبکہ استقبالیہ کلمات ادارہ کے صدر فاروق شاہین نے ادا کئے اور تحریکِ شکرانہ ڈاکٹر الطاف حسین یتو نے پیش کی۔ پروگرام کی نظامت رتبہ قریشی نے انجام دی۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق فاروق شاہین نے اپنے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ ہم اس محفل افسانہ کا انعقاد اس لئے کررہے ہیں تاکہ ہمارے نوجوان قلمکاروں کو معیاری افسانہ لکھنے کی رہنمائی ملے انھیں پتہ چلے کہ آج کا افسانہ کس مقام یا درجے پر پہنچ چکا ہے۔انھوں نے مذید کہاکہ اس محفل کے انعقاد سے قلمکاروں کو یہ فائدہ ملے گا کہ وہ معیاری ادب تخلیق کرسکیں۔افسانہ’’ ہانڑھ‘‘ کو سامعین نے بے حد سراہا۔ کہانی میں انسانی غرور، سماجی اقدار اور وقت کے بے رحم فیصلوں کی عکاسی کی گئی تھی۔ ڈاکٹر یونس مہدی صاحب نے اپنے بصیرت افروز تجزیے میں افسانے کے فنی و فکری پہلوؤں کو اجاگر کیا اور اسے ایک منفرد تخلیق قرار دیا۔متعدد سامعین نے اس پروگرام کو ادارہ تحقیق و ادب کی ایک بہترین کاوش قرار دیا۔ کشمیر عظمیٰ کے نامہ نگار اشرف چراغ نے لکھا کہ “ادارہ تحقیق و ادب کی یہ کوشش بے حد قابلِ ستائش ہے، اور محفل میں پیش کردہ کہانیاں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی ہیں۔” ادارہ تحقیق و ادب کے فعال ممبر فردوس فیضی نے کہا کہ “یہ سلسلہ نوآموز قلمکاروں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے اور کشمیری ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔” معروف استاد اور ادارہ تحقیق و ادب جموں و کشمیر کے میڈیا انچارج فاروق احمد لون نے افسانے کے بارے میں لکھا کہ “ہانڑھ نہ صرف ایک کہانی ہے بلکہ انسانی نفسیات اور تقدیر کی بے رحمی پر ایک گہری سوچ ہے۔”معروف ادبی شخصیت گلزار جعفر نے کہا کہ “رتبہ قریشی نے ہمیشہ اپنی منفرد میزبانی سے تقریبات کو دلچسپ بنایا ہے، جبکہ فاروق شاہین صاحب کشمیری زبان و ادب کی ترقی کے لیے شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں۔” ادارہ تحقیق و ادب جموں و کشمیر کے نائب صدر ایم اے قریشی اور مشہور شاعر نذیر تبسم نے بھی اس پروگرام کو سراہتے ہوئے منتظمین، خاص طور پر صدر فاروق شاہین اور رتبہ قریشی کو مبارکباد پیش کی۔وادی کے مشہور و معروف افسانہ نگار رحیم رہبر نے نے دنیائے افسانہ کے مختلف افسانہ نگاروں کے اقوال کا ذکر کرتے ہوئے افسانہ نگاری کے فن پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی منتخب افسانے پر بات کرتے ہوئے اسکی فنی خوبیوں کو اجاگر کیا۔ صفدر یوسف نے تجویز دی کہ “یہ پروگرام یوٹیوب یا فیس بک پر بھی نشر کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہو سکیں۔”ادارہ تحقیق و ادب جموں و کشمیر کی اس علمی و ادبی کاوش کو ادبی حلقوں میں بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ اس سے پہلے دوسرے شمارے میں ادارے نے نوجوان افسانہ نگار راضی طاہر کا افسانہ “نب تہ آسہ رْتْے ” پیش کیا۔اس افسانے پر ڈاکٹر رؤف عادل نے اپنا پرمغز تبصرہ پڑھا۔اس افسانے کو بھی سامعین نے بہت پسند کیا۔اس افسانے کو سن کر سامعین نے افسانے کے روشن مستقبل کا تعین کیا۔ڈاکٹر رؤف عادل نے افسانہ نگارکو افسانوں کے حوالے سے لکھے گئے تنقیدی مضامین پڑھنے کا صلع دیا جس سے افسانہ نگار زیادہ بہتر انداز میں اپنے افسانے تحریر کرسکتا ہے۔ اردو دنیا کے معروف فکشن نگار ڈاکٹر ریاض توحیدی نے لکھا کہ راضی طاہر میں زبردست تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے افسانے کو پسند کیا اور تبصرہ نگار کی کاوشوں کو بھی سراہا۔کشمیری افسانہ نگار رحیم رہبر نے ادارے کی کاوشوں کی تعریف کی اور ادارے کو یہ سلسلہ جاری رکھنے کی ترغیب دی۔فردس فیضی نے لکھا کہ اس افسانے نے یقینی طور ایک حساس موضوع کو عمدہ پیرامیں پیش کیا ہے۔انہوں نے مذید لکھا کہ اس طرح کے ادبی پروگرام ہمارے معاشرے میں فکری بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔










