آپریشنل صلاحیتوں اور لاجسٹک کارکردگی کو بڑھانے کے ایک بڑے اقدام

آپریشنل صلاحیتوں اور لاجسٹک کارکردگی کو بڑھانے کے ایک بڑے اقدام

فوج نے جموں و کشمیر میں اپنی کارروائیوں میں سول ہیلی کاپٹروں کو متعارف کرایا

سرینگر// آپریشنل صلاحیتوں اور لاجسٹک کارکردگی کو بڑھانے کے ایک بڑے اقدام میں فوج نے جموں و کشمیر میں اپنی کارروائیوں میں سول ہیلی کاپٹروں کو متعارف کرایا ہے۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں فوج نے اپنی کارروائیوں میں سول ہیلی کاپٹروں کو متعارف کرایا ہے۔ حکام نے بتایا کہ شمالی کمان کی دھرووا کمانڈ کے تحت کی جانے والی اس پہل کا مقصد دستوں کی نقل و حرکت کو بہتر بنانا، کارگو کی ترسیل کو ہموار کرنا اور دور دراز اور مشکل علاقوں میں زخمیوں کو نکالنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔دفاعی ترجمان نے کہا کہ لاجسٹکس کی کارکردگی کو بڑھانے کیلئے دھروا کمانڈ نے سول ہیلی کاپٹروں کو لاجسٹکس کی کوششوں میں ضم کر دیا ہے تاکہ فوجیوں کی نقل و حرکت، سامان کی ترسیل اور دور دراز کے علاقوں میں زخمیوں کو نکالنے میں مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مشن کی تیاری اور لاجسٹک کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے مقامی روز نامہ کو بتایا کہ سول ہیلی کاپٹروں کا استعمال مشکل ٹپوگرافی اور خراب موسمی حالات والے خطوں میں لاجسٹک چیلنجوں سے نمٹ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ انفراسٹرکچر اور وسائل کو بڑھانے کیلئے گھنے علاقوں میں آپریشنل تیاری کو بھی یقینی بنائے گا۔اناس کے تحت آرمی کے اپنے ایوی ایشن یا ایئر فورس کے اثاثوں کے بجائے سول ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف اخراجات کو کم کرے گا بلکہ جنگی یا ہنگامی حالات میں مزید اہم کرداروں کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کی سروس لائف کو محفوظ رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس بات میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے کہ سخت سردیوں کے دوران جب شدید برف باری کے باعث ان علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے تو فوج کس طرح اپنی اونچائی والی پوزیشنوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہیلی کاپٹر ایک نجی کمپنی کے ذریعہ آؤٹ سورس کیے گئے ہیں جو اس کی دیکھ بھال کی بھی ذمہ دار ہوگی۔افسر نے مزید کہا کہ سول ایوی ایشن کے اثاثوں کا انضمام ہمارے کاموں میں لچک اور توسیع پذیری فراہم کرتا ہے۔ یہ تعاون موجودہ فوجی وسائل اور جدید جنگ اور امن کے وقت کے لاجسٹکس کے ابھرتے ہوئے تقاضوں کے درمیان فرق کو ختم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ہیلی کاپٹروں کو بہت سے اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا، بشمول ضروری سامان جیسے راشن، طبی سامان اور گولہ بارود کی ایئر لفٹنگ شامل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ’’یہ ہیلی کاپٹر مسلح جھڑپوں یا کسی بھی موسمی حالات کے دوران زخمی اہلکاروں کو دور دراز کی چوکیوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کریں گے، خاص طور پر اونچائی والے علاقوں میں جہاں طبی سہولیات تک فوری رسائی جان بچانے والی ہو سکتی ہے۔ ‘‘