زبانوں کی ترویج اور فروغ کیلئے بلند بانگ دعوے ،گھروں سے مادری زبانوں کا نکل گیا جنازہ ،کشمیری زبان کاحال بھی اطمینان بخش نہیں
سرینگر// 21فروری کو ہرسال دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایاجارہا ہے اس دن کا مقصد مادری زبانوں کو اپنانے اورعملانے کیلئے یاد دلاناہوتا ہے ۔سال میں ایک بار مادری زبان کا دن منانے کو سب سے پہلے یونیسکو کے ذریعہ 17 نومبر 1999 کو اعلان کیا گیا اور جس سے سال 2002 میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی منظوری کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اس دن دنیا بھر میں تقاریب اور سیمناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان تقاریب اور سمیناروں میں مقررین مادری زبان پر گھنٹوں بھر تقاریر کرکے مادری زبان کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس کے تحفظ کے لئے بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں ہمارے ملک میں بھی 21 فروری کو ہر سال کچھ اسی طرح کی محفلیں آراستہ کی جاتی ہیں اور مادری زبان کی اہمیت اور افادیت کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لئے اقدامات کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر یہ اقدامات فائلوں تک ہی محدود رہتے ہیں اور اگلے سال 21 فروری کا انتظار کرتے ہیں اور پھر ایک بار اسی طرح کی تقاریب اورسمیناروں کا انعقاد کیا جارہا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک فضول مشق ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر ہم اپنی مادری زبان کشمیر ی کی بات کریں تو یہاں پر بھی اس روز سمیناروں اور تقاریب کا انعقاد کیا جارہاہے لیکن ہمارے گھر میں اس مادری زبان کا خیال بنا کے رکھا ہے اس کا تو خد ا ہی حافظ ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس نے کئی سرگرم ادبی شخصیات کے ساتھ بات کی تو انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کی تاریخ بہت قدیم ہے اوراس کی اپنی ایک منفرد پہچان ہے لیکن زمینی سطح پر ہم لوگ اس کا جنازہ نکالتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں اور اسکولوں میں آجکل بچوں کو اردو یا انگریزی زبان بولنے کی عادت ڈالی جاتی ہے اور ان کو یہ کہہ کر یہ زبانیں سیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ آپ کو گھر میں ہی نہیں رہنا ہے بلکہ باہر جانا ہے لیکن جب ہم اب غور کرتے ہیں تو یہ زبانیں سکھاتے سکھاتے ان کا بھی ستیاناس کیا جاتا ہے کیونکہ اب بچوں کو ایسے الفاظ کا استعمال کیا جاتاہے جیسے نوزی کو صاف کرو،ڈاگی آئی ۔اس سے ان زبانوںکا بنیادی تاثر متاثر ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اردو زبان نے اب ہر خطے میں مادری زبان کا درجہ لیا ہے لیکن اس کا بھی صحیح استعمال نہیں ہوپارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت پر مبنی بات ہے کہ جوقوم اپنی زبان کو اپنانے اور عملانے سے غافل ہے اور اپنی نئی نسل کو اس کی طرف متوجہ نہیں کرتی تو وہ قوم اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کی ترویج کیلئے دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن وہ اب شاعری اور افسانہ نگاری تک محدود رہ گئی ہے جبکہ نئی نسل اس زبان سے کوسوں دور دکھائی دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ شاعری یا نثری اعتبار سے اس کو فروغ دینے میں کوئی قباحت تو نہیں بلکہ اس سے زبان کا زندہ رہناطے ہے لیکن جب تک نہ یہ زبان بول چال کی نہ رہے گی تو اس کا مقصدمفقود ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب اسکولوں میں کئی کلاسوں میں کشمیر ی زبان پڑھائی جاتی ہے اور یونیوسٹیوں یا کالجوں میں بھی بطور نصاب اس کو پڑھایا جاتا ہے لیکن مجموعی طور اس کی حالت کسی بھی صورت میں اطمینان بخش نہیں ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے ادیبوں ،شاعروں ،اساتذہ ،سماج کے ذمہ دار افراد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری زبان کو نئی نسل میں مستحکم اور راست بنانے کیلئے گھر وں میں بولنے کی طرف مائل کیا جائے تاکہ ہماری انفرادی شناخت ختم ہونے سے بچ جائے اور بہ آسانی گھر کا ہر کوئی شخص بالخصوص بزرگ افراد بچوں سے پیارومحبت کا اظہارکرسکے ۔مثال کے طور پر ’’بلائی لگیو‘‘زو ووند میئے یا ‘‘رتہ چھپئی لوگہ سئی یا ‘‘یا لجہ سئی یاوغیرہ الفاظ کا استعمال ہوکر اپنایت قائم رہ سکے ۔










