جموں وکشمیر میںہارٹی کلچر ٹریڈ اور مارکیٹ روابط کو فروغ دینے کیلئے ’ بائیر ۔ سیلر میٹ ‘ کا اِنعقاد

جموں وکشمیر میںہارٹی کلچر ٹریڈ اور مارکیٹ روابط کو فروغ دینے کیلئے ’ بائیر ۔ سیلر میٹ ‘ کا اِنعقاد

ہر ضلع میں ’ سینٹر آف ایکسی لینس ‘ قائم ہوگا۔ جاوید ڈار

جموں / / محکمہ باغبانی، منصوبہ بندی و مارکیٹنگ جموں و کشمیر نے آج کنونشن سینٹر کنال روڈ میں ’کسانوںکو منڈیوں سے جوڑنا‘ کے موضوع پر بائیر ۔ سیلر میٹ کا اِنعقاد کیا۔ اِس میٹ کا مقصد مارکیٹ روابط کو مضبوط بنانا اور یونین ٹیریٹری کے فروغ پذیر باغبانی شعبے میں زرعی کاروباری شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔اِس تقریب کی صدارت وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، باہمی اِمداداور الیکشن جاوید احمد ڈار نے کی۔اِ س موقعہ پر ایم ڈِی جے کے سی آئی پی،ایچ اے ڈی پی، اے پی ڈی، جنرل منیجر نبارڈ، سپیشل سیکرٹری اے پی ڈِی، ایم ڈِی جے کے ایگرو، ایم ڈِی ایچ پی ایم سی، ڈائریکٹر کمانڈ اور باغبانی، زراعت،بھیڑ و پشو پالن، ماہی پروری، ریشم اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان موجود تھے۔ اِس میٹنگ نے مختلف شراکت داروں کو اِکٹھا کیا جن باغبانی کے ممتازکاشت کار ،فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، تاجر، برآمد کنندگان، ایگری اَنٹرپرینیورز اور ملک بھر سے منظم ریٹیل چینز کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ تقریب بائیر ۔سیلر کنندگان کے درمیان براہ راست روابط قائم کرنے کا ایک متحرک پلیٹ فارم ثابت ہوئی جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، قیمتوں کی بہتر وصولی کو یقینی بنانا اور جموں و کشمیر کی اعلیٰ باغبانی پیداوار جیسے سیب، اخروٹ، باسمتی چاول، چیری، پیکن نٹس، ناشپاتی اور خوبانی کے لئے نئی مارکیٹ کی راہیں کھولنا ہے۔تقریب میں بی ٹو بی اِستفسار، تکنیکی سیشنوں اور علم و تجربے کا تبادلہ ہوا۔ جن موضوعات پر گفتگو ہوئی ان میں باغبانی مصنوعات کی برآمدی صلاحیت، ’گْڈ ایگری کلچرل پریکٹسز‘ کی عمل آوری، اِی۔نیم جیسے اِی۔ مارکیٹ پلیٹ فارموں کے ساتھ انضمام اور پیکیجنگ و لاجسٹکس میں جدید اختراعات شامل ہیں۔محکمہ نے شراکت داروں کو تربیتی پروگراموں، صلاحیت سازی کے پروگراموں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مارکیٹ تک رَسائی کی سہولیت فراہم کرنے کے لئے اَپنے عزم کا اعادہ کیا۔یہ اَقدام یو ٹی حکومت کے اس وسیع تر ویژن کا حصہ ہے جس کے تحت باغبانی پر مبنی روزگار کو مستحکم کیا جائے گا اور جموں و کشمیر کی زرعی معیشت کو ایک منڈی پر مبنی اور دیرپا نظام کو فروغ دیا جائے۔جاوید ڈار نے جموں و کشمیر میں باغبانی شعبے کو فروغ دینے کے لئے محکمہ کی طرف سے اُٹھائے گئے اَقدامات کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے شرکأ پر زور دیا کہ وہ حکومت کی طرف سے کسانوں اور خریداروں کی بہتری کے لئے شروع کی گئی مختلف سکیموں سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت باغبانی شعبے کو فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے تاکہ جموں و کشمیر کے کسانوں کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ حکومت مستقبل میں بھی ایسے اہم پروگرام شروع کرنے کے امکانات تلاش کرتی رہے گی۔وزیر موصوف نے یقین دِلایا کہ ہر ضلع میں ایک’سینٹر آف ایکسی لنس‘قائم کیا جائے گا جو کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مہارت اور وسائل تک رَسائی فراہم کرے گا۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ مختلف شعبوں جیسے باغبانی، زراعت،پشو پالن کی ترقی پر توجہ مرکوز کریں تاکہ ذریعہ معاش کی وجہ سے نقل مکانی کو روکا جا سکے۔اِس تقریب نے کسانوں، ایف پی اوز اور ادارہ جاتی خریداروں کے درمیان براہ راست روابط اور بات چیت کو ممکن بنایا جس سے شفاف قیمتوں پر گفت و شنید اور طویل مدتی کاروباری مواقع پیدا ہوئے۔ اِس موقعہ پر مقامی مصنوعات جیسے اخروٹ، زعفران اور پروسیس شدہ اشیأکی نمائش بھی کی گئی۔تقریب میں جدید مارکیٹنگ پلیٹ فارموں جیسے ای نیم کی اِفادیت کو بھی اُجاگر کیا گیا اور بی ٹو بی شراکت کو فروغ دیا ۔ اِس سے قبل اِفتتاحی خطاب ڈائریکٹر باغبانی ، منصوبہ بندی اور مارکیٹنگ غلام جیلانی زرگر نے حکومت کے اُس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مقامی فروخت کنندگان اور خریداروں کے درمیان یو ٹی مارکیٹ روابط پیدا کرنے کے لئے ایک مضبوط نظام تشکیل دے رہی ہے۔ اُنہوں نے ’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی)‘اور ’’جموں و کشمیر کمپی ٹیٹو انوسٹمنٹ پروجیکٹ (جے کے سی آئی پی) کے تحت جاری اہم اقدامات کو اُجاگر کیاجن میں کنٹرولڈ ایٹموسفیر سٹورز، انٹگریٹیڈ پیک ہاؤسز، گریڈنگ و سورٹنگ لائنز اور کولڈ چین انفراسٹرکچر میں توسیع شامل ہے جن کا مقصد فصلوں کے بعد نقصانات کو کم کرنا اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔اَفسران نے حکومت کے اس عزم پر زور دیا کہ وہ انفراسٹرکچر، مارکیٹ مداخلت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے دیرپا باغبانی کے ایکو سسٹم کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ اَقدام کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ اور خطے بھر میں ویلیو چین کی ترقی میں اہم کردار اَدا کرے گا۔