چیف سیکرٹری کا ڈیزاسٹر ورکشاپ سے خطاب

چیف سیکرٹری کا ڈیزاسٹر ورکشاپ سے خطاب

کہا، ہرڈیزاسٹر ایک سبق آموز مثال ہے،ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے ’ اِنسیڈنٹ رسپانس سسٹم ‘ پر ہینڈ بُک جاری کی

سری نگر// ٓفات سے بچاؤ اور تیاری کے حوالے سے جموں و کشمیر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر آج یونین ٹیریٹری سطح پر ’’اِنسڈنٹ رسپانس سسٹم(آئی آر ایس)‘‘ پر ایک اعلیٰ سطحی ورکشاپ کا اِنعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، پرنسپل سیکرٹری داخلہ و ڈِی ایم آر آر اینڈ آر چندرکر بھارتی، سینئر ایڈمنسٹریٹیو سیکرٹریوں،صوبائی کمشنروں، محکموں کے سربراہان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہرین بشمول سابق سینئر کنسلٹنٹ مرکزی وزارت داخلہ بریگیڈیئر کلدیپ سنگھ( ریٹائرڈ) نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے اِفتتاحی کلمات میں شہریوں اور اِداروں کے درمیان آفات سے نمٹنے کی تیاری کے کلچر کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا،’’آفات اکثر بغیر کسی پیشگی انتباہ کے آتی ہیں اور ہر ایسی صورتحال میں شہری ہی سب سے پہلے ردِّعمل دینے والے ہوتے ہیں۔ ہر باشعور فرد پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگاہ، تیاراور فعال ہو کر آفات سے نمٹنے کے لئے اَپنا کردار ادا کرے۔‘‘اُنہوں نے جموں و کشمیر کے منفرد جغرافیائی و ماحولیاتی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ زلزلوں، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (جی ایل او ایف)، لینڈ سلائیڈز، سرحد پار کشیدگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث متاثر ہو سکتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’چوں کہ ہم کئی خطرات سے دوچار ہیں۔اس لئے ہماری تیاری ہمہ جہت، ادارہ جاتی طور پر مضبوط اور تکنیکی طور پر فعال ہونا چاہیے۔‘‘
اَتل ڈولو نے زور دیا کہ آفات سے نمٹنے کی تیاری کا معیار صرف کاغذی کارروائی سے نہیں بلکہ اِنسانی جانوں کو بچانے اور ایمرجنسی حالات میں نظام کی مؤثر کارکردگی سے ناپا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے آفات کی شدت اور تعداد میں اِضافہ کیا ہے جس سے حکومتوں، اِداروں اور شہریوں پر بڑی ذِمہ داری عائد ہوتی ہے۔اُنہوں نے مختلف اَقدامات جس میںواضح اِدارہ جاتی ڈھانچہ اور ہر ایک کے کردار کی وضاحت،جدید ٹیکنالوجی جیسے جی آئی ایس میپنگ، موسمیاتی پیش گوئی، اور ڈرون کی مدد سے نگرانی،مقامی کمیونٹی فعال شمولیت، این جی اوز، سول سوسائٹی اور رضاکاروں کی تربیت،افسران کے لئے مڈ کیریئر تربیت اور باقاعدہ مشقیں،اَضلاع اور بلاک کی سطح پر مقامی خطرات کی بنیاد پرآئی آر ایس پروٹوکول میں تبدیلی،دستیاب وسائل، مشینری، اَفرادی قوت اور خطرے سے دوچار علاقوں کو ظاہر کرنے کے لئے ڈیزاسٹر ڈیش بورڈ کا قیام شامل ہیں ، کی وکالت کی۔پرنسپل سیکرٹری داکلۃ و ڈِی ایم آر آر اینڈ آر چنر کربھارتی نے ورکشاپ کے اِفتتاحی خطاب میں آئی آر ایس کو ایک نیا اور مربوط کمانڈ نظام قرار دیا جو آفات کے دوران مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ نظام بین الاقوامی بہترین طریقوں پر مبنی ہے اورنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اَتھارٹی (این ڈِی ایم اے) کے ذریعے بھارت میں مقامی حالات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جو ہر آفیسر کے کردار کی واضح تفصیل فراہم کرتا ہے تاکہ ایمرجنسی صورتحال میں ابہام نہ رہے۔اُنہوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری اقدامات پر روشنی ڈالی جس میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈز کے لئے تخفیفی منصوبے،اِنڈیا ڈیزاسٹر ریسورس نیٹ ورک (آئی ڈِی آر این) کا انضمام،فیصلہ سازی میں مددگار نظام کا نفاذ،ایمرجنسی آپریشن سینٹر (اِی او سی) کا قیام شامل ہیں۔اُنہوں نے ان اقدامات کے ذریعے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی اُمید ظاہر کی اور کہا کہ تمام سطحوں پر آفات سے نمٹنے کے پروٹوکول کو ادارہ جاتی شکل دِی جائے۔
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) کلدیپ سنگھ، جو ایک تجربہ کار ماہرِ آفات ہیں، نے آفات کی اقسام، معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) اور ایمرجنسی صورتحال میں مختلف شراکت داروں کی ذمہ داریوں پر تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے کہا،’’کوئی بھی علاقہ آفات سے محفوظ نہیں، اس لئے ترقی کے ساتھ ساتھ چوکسی اور ذِمہ داری میں اِضافہ بھی ضروری ہے۔‘‘اُنہوں نے مرکزی حکومت، UT حکومت،این ڈِی ایم اے ، ایس ڈِی ایم اے ،ڈِی ڈِی ایم اے اور بلاک سطح کے اداروں کی مشترکہ اور قابلِ توسیع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مربوط منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم اور کمیونٹی پر مبنی تیاری کو بھارت کو ایک آفات سے محفوظ ملک بنانے کی کنجی قرار دیا۔ بعد میں’’ اِنسیڈنٹ رسپانس سسٹم (آئی آر ایس) پر مبنی ایک جامع رہنما کتاب جاری کی گئی جس میں آفات کی صورت میں شامل ہر آفیسر اور محکمہ کی ذمہ داریاں واضح طور پربیان کیا گیا ہے۔یونین ٹیریٹری سطح پر آئی آر ایس کی سربراہی چیف سیکرٹری کرتے ہیں جو رسپانس آفیسر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اِس کتاب میںآئی آر ایس کا درجہ بندی نظام، اِنسیڈنٹ کمانڈر، نوڈل آفیسر، رابطہ آفیسر، منصوبہ بندی اور میڈیا کمیو نی کیشن سسٹم کے رول بھی بیان کئے گئے ہیں جس سے جموں و کشمیر میں آفات سے نمٹنے کے لئے ایک منظم، ہم آہنگ اور مؤثر نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔