سرینگر//امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیے جانے کے بعد کہ انہوں نے ’’بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکا‘‘، کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ ٹرمپ اپنے دعوے ’لا تعداد بار‘ دہرا چکے ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل خاموش ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق کانگریس کے کمیونی کیشن انچارج جے رام رمیش نے ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) پر شیئر کی، جس میں ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں کینیڈی سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “میں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ روکی، اور وہ بھی تجارت کے ذریعے۔رمیش نے کہا، “جس وقت بھارت احمد آباد طیارہ حادثے کے صدمے میں ہے، امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر بھارت-پاکستان سے متعلق اپنے دعوے دہرا رہے ہیں۔ اور وزیر اعظم ان دعووں پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی کو وہ ختم کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، “میں سب کچھ حل کر سکتا ہوں۔ میں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل مدتی رقابت رہی ہے۔ میں نے دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے کہا کہ اگر تم جنگ کرو گے، خاص طور پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرو گے، تو امریکہ کے ساتھ تجارت ختم ہو جائے گی۔ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ “پاکستان کی باری تھی حملہ کرنے کی، اور وہ ایٹمی حملے کی طرف جا رہے تھے، لیکن میں نے دونوں رہنماؤں سے فون پر بات کی، اور جنگ رکے گی ۔بھارت نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کشمیر ایک دو طرفہ مسئلہ ہے اور کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی گنجائش نہیں ہے۔ ماضی میں بھی بھارت امریکی مداخلت کے ایسے دعووں کو مسترد کر چکا ہے۔دریں اثنا، بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد بڑھی، جس کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانوں پر ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کیں۔ پاکستان نے 8، 9 اور 10 مئی کو جوابی کارروائی کی کوشش کی، تاہم 10 مئی کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) کے درمیان براہ راست رابطے کے بعد کشیدگی میں کمی واقع ہوئی۔کانگریس نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات صرف ایک پہلو نہیں، بلکہ امریکہ کے ساتھ بھارت کی سفارتی سطح پر کئی سنگین دھچکے لگے ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ امریکی فوج کے جنرل مائیکل کوریلا کی جانب سے پاکستان کو ’انسداد دہشت گردی میں غیر معمولی ساتھی‘ قرار دینا، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا امریکہ کا مجوزہ دورہ اور ٹرمپ کے حالیہ بیانات — یہ تین بڑے سفارتی چیلنجز ہیں۔انہوں نے کہا، “یہ تمام بیانات اور واقعات اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی زمینی حقائق کی بجائے صرف گھریلو سیاسی مقاصد سے چلائی جا رہی ہے۔رمیش نے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ضد چھوڑ کر تمام پارٹیوں کی میٹنگ بلائیں اور اس مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کریں تاکہ خارجہ پالیسی پر اتفاق رائے سے کوئی مؤثر لائحہ عمل طے ہو۔










