تمام کارروائیاں سختی سے جے کے اے ایس کے آئینی فریم ورک کے تحت کی گئی /لیفٹنٹ گورنر کی وضاحت
سرینگر// جموں و کشمیر میں حکمران اتحاد کے 46 ممبر ان اسمبلی نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی طرف سے 48 جے کے اے ایس افسران کے حالیہ تبادلے کے سیاسی اور انتظامی اثرات پر مایوسی کا اظہار کرنے کے فوراً بعد لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام کارروائیاں سختی سے جے کے اے ایس کے آئینی فریم ورک کے تحت کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہیں کیا، میں اپنے دائرہ اختیار اور ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہوں۔ میں نے ان کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی کبھی کروں گا۔سی این آئی کے مطابق افسران کے تبادلے اور تقرریوں کے بعد پیدا سیاسی صورتحا ل کے بیچ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’میں یہ بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں پارلیمنٹ نے 2019 میں جموں و کشمیر کی تنظیم نو کا ایکٹ پاس کیا تھااور میں نے مکمل طور پر اس ایکٹ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کیا ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا ’’میں نے کبھی اپنی آئینی حدود سے تجاوز نہیں کیا، میں اپنے دائرہ اختیار اور ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہوں، میں نے ان کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی کبھی کروں گا‘‘۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے بلائی گئی اتحادی جماعتوں کی ہنگامی میٹنگ کے فوراً بعد نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق اور کانگریس لیڈر نظام الدین بٹ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک بار پھر حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کرے۔










